بی جے پی حکومت نے کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کررکھے ہیں:حریت کانفرنس

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بھارت کی بی جے پی حکومت اور علاقے میں اس کی مسلط کردہ انتظامیہ نے ریاستی دہشت گردی اور جابرانہ پالیسیوں کے ذریعے مظلوم کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں بھارت کی سامراجی اور ہندوتوا پر مبنی پالیسیوں کی شدید مذمت کی جن کا مقصد جموں و کشمیر کے عوام کے ہر جائز مطالبے کو دبانا ہے۔ترجمان نے کہا کہ بی جے پی کی مسلط کردہ انتظامیہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر مقامی لوگوں کو جموں خطے میں آباد کررہی ہے اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقے میں بی جے پی کے ہندوتوا ایجنڈے کو آگے بڑھارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ خاص طور پر اگست 2019میں دفعہ370اور 35A کی منسوخی کے بعد کشمیریوں کی سیاسی، سماجی، مذہبی اور دیگر بنیادی حقوق سے محرومی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے فوری مداخلت کا تقاضا کرتی ہے تا کہ بھارتی جارحیت کو روکا جاسکے ۔ایڈوکیٹ منہاس نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی بربریت کا نوٹس لے اور تنازعہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے میں اپنا موثر کردار ادا کرے۔حریت ترجمان نے بنگلہ دیش میں ممتاز نوجوان رہنما شریف عثمان ہادی کے قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹارگٹ کلنگ اور بیرون ملک مداخلت کی پالیسی بند کرے۔ انہوںنے ناانصافی کے خلاف جدوجہد میںعثمان ہادی کی ثابت قدمی کی تعریف کی اور مرحوم کی مغفرت کے لئے دعا کرتے ہوئے کہا کہ قاتل، اس کی سرپرستی کرنے والے اور سازش کرنے والے کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔







