ایران پر امریکہ و اسرائیلی جارحیت: پاکستان کا کردار اور عالمی منظرنامہ
محمد شہباز
21 ویں صدی میں عالمی سیاست میں طاقت کا توازن بڑی تیزی سے بدل رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران پر امریکہ اور اسرائیلی جارحیت نے پورے مشرقی وسطی اور خطے کے دیگر ممالک کو شدید کشیدگی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ایران کی سرزمین پر ہونے والے حملے، امریکی اور اسرائیلی اقدامات، اور عالمی ردعمل نے دنیا کے سیاسی منظرنامے کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔28 فروری کی دوپہر دنیا کی تمام ٹی وی چینلز پر معمول کی نشریات معطل کر دی گئیں اور ایرانی دارالحکومت تہران سے براہ راست نشریات شروع کی گئیں۔ اس نشریات میں تہران کے متعدد مقامات بشمول ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے کمپاونڈ پر امریکی و اسرائیلی حملوں کی تصاویر اور ویڈیوز دکھائی گئیں۔ اس حملے نے عالمی سطح پر شدید ہلچل پیدا کر دی۔دوسرے دن ایران نے تصدیق کی کہ اعلی فوجی قیادت سمیت آیت اللہ خامنہ ای کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔اس اعلان کیساتھ ہی پورا تہران آزادی چوک میں جمع ہو ا، جس سے یہ منظر سامنے آیا کہ شہر کی ہر گلی، ہر چوک عوام سے بھری ہوئی تھی۔ہر طرف انسانی سر ہی سر نظر آرہے تھے۔جو اپنے قائد کو الوداع کہہ رہے تھے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ خوف کی فضا طاری ہوجاتی لیکن ایرانی عوام نے دنیا کو ایک مضبوط پیغام دیا ہے کہ ایران جی دار لوگوں کا مسکن ہے’ جنہیں آسانی سے زیر نہیں کیا جاسکتا۔اہل ایران نے پہلا وار سہا اور امر بھی ہوگئے۔دنیا رجیم چینج کے خواب دیکھ رہی تھی مگر ایسا نہ ہوسکا۔
ا مریکہ اور اسرائیل نے محض ان حملوں پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ 18 مارچ کو ایران کے اعلی سیکورٹی چیف ڈاکٹر علی لاریجانی کو نشانہ بنایا، جس میں ان کا بیٹا بھی شہید ہوا۔ایران میں بنیادی انفراسٹرکچر، رہائشی عمارات اور اقتصادی مراکز کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے۔ عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے تناظر میں یہ اقدامات انتہائی تشویشناک ہیں۔
اب تک ایران میں پندرہ ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جاچکا ہے اور آثار و قرائن یہی بتارہے ہیں کہ ایران بالعموم اور تہران کو بالخصوص غزہ بنانے کی ہنود و یہود کی کوششیں پوری شدت کیساتھ جاری ہیں۔ہزاروں عمارات ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔۔ایران بھی خطے میں امریکی اثاثوں کیساتھ ساتھ صہیونی اسرائیل کے اندر اہم فوجی اور ایٹمی تنصیبات کو ٹھیک ٹھیک نشانہ لگارہا ہے۔جس نے پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے پورے عالم کفر کو اپنے ساتھ ملانے کی بھرپور کوشش بھی کی،اس کیلئے کہیں دھونس دبائو اور طعنوں سے بھی کام لیا گیا،البتہ دنیا نے ٹرمپ کی اپیلوں کو یکسر نظر انداز کرکے خود کو ا یران کے خلاف اس کھلی جارحیت سے الگ رکھا۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکہ میں رائے عامہ نے ٹرمپ کے اقدامات کو پذیرائی بخشنے کے بجائے انہیں آڑے ہاتھوں لیا۔امریکی رائے عامہ کی دیکھا دیکھی میں18 مارچ 2026 کو واشنگٹن ڈی سی کے کیپیٹل ہل پر امریکی سینیٹ کمیٹی برائے انٹیلی جنس نے امریکی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تلسی گیبرڈ کو طلب کرکے اس کی خوب کھنچائی کی۔ مگر دلچسپ امر یہ ہے کہ تلسی گیبرڈنے امریکی سینیٹ کمیٹی برائے انٹیلی جنس کے سامنے یہ بیان دینا ضروری سمجھا کہ چین،روس ،شمالی کوریا،ایران اور پاکستان ایسے نئے، جدید یا روایتی میزائل سسٹمز کی تحقیق اور تیاری میں مصروف ہیں، جو جوہری اور روایتی ہتھیاروں کیساتھ امریکہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ تلسی گیبرڈ مذہبی اور ثقافتی طور پر ہندو روایت سے گہرا تعلق رکھتی ہیں اور اس سے ہندو مذہب کی جانب راغب ان کے والدین نے ہی کیا۔ تلسی گیبرڈ ہندو مت اور ہندو روایات سے خاص قربت رکھتی ہیں۔ وہ کئی بار بھارت کا دورہ بھی کر چکی ہیں اور بھارتی ثقافت کو پروان بھی چڑھاتی رہی ہیں۔
جس دن تلسی گیبرڈ امریکی سینیٹ کمیٹی برائے انٹیلی جنس کے سامنے بیان دے رہی تھی،عین اسی دن بھارت میں اسرائیلی سفیر روئین آزر نے بدنام زمانہ بھارتی اینکر ارنب گوسوامی کیساتھ ایک انٹرویو میں پاکستان کا نام لیے بغیر کہا کہ ایک شرارتی ریاست کے پاس پہلے سے ایٹمی ہتھیار موجود ہیں لہذا دوسری ریاست ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنا لازمی امر ہے۔ تلسی گیبرڈ اور صہیونی سفیر کے بیانات محض اتفاقات ہیں یا پاکستان کے خلاف سوچی سمجھی اور منصوبہ بند سازش ہیں،ماہرین ان بیانات کی ٹائمنگ کو اہمیت کے حامل اور امریکی انتظامیہ میں شامل تلسی گیبرڈ جیسے ہندوتوا نظریات کو پروان چڑھانے کی خطرناک سوچ سے تعبیر کررہے ہیں۔
پاکستان کے بارے میں اسرائیلی نظریات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اسرائیل کو یورپ کی ناجائز اوالاد قرار دے چکے ہیں۔جبکہ تمام تر دباو کے باجود پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔گوکہ پاکستان نے بھارت میں اسرائیلی سفیر کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حقیقی جارحیت اسرائیل کے غیر قانونی قبضے اور غزہ میں انسانی بحران سے عیاں ہے، اسرائیلی قیادت کے خلاف عالمی عدالتوں میں مقدمات اور عالمی ریکارڈ سب کے سامنے ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سید طاہر اندرابی نے کہا کہ جارحیت اور غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کا اصل ریکارڈ غیر قانونی قبضے، غزہ میں جاری انسانی بحران اور اسرائیلی قیادت کے خلاف بین الاقوامی عدالتوں میں عائد فرد جرم سے عیاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ دار ریاستیں بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرتی ہیں نہ کہ اس سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتی ہیں۔
تلسی گیبرڈکے بیان کو بھی پاکستان نے یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت جو بارہ ہزار کلو میٹر رینج تک میزائل بنارہا ہے ،اس کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ،اس کے برعکس پاکستان کا نام لینا ضروری سمجھا گیا ہے۔ماہرین نے اس بیان کو مشرقی وسطی کی جنگ میں پاکستان کو دھکیلنے کے تناظر میں ناکام کوشش سے تعبیر کیا ہے ،لیکن پاکستان نے آج تک جس دانشمندی اور بھرپور سفارتی ذرائع کا استعمال کیا ہے،اس کی نہ صرف پوری دنیا بلکہ خود ایران نے بھی سراہنا کی ہے۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایران کے حوالے سے پاکستان کے کردار کا برملا اعتراف کیا جبکہ ایران کے نئے سرپم لیڈر آیت اللہ مجتبی خامنہ ای نے بھی اپنے پاکستانی بھائیوں کا نام لیکر پاک ایران تعلقات کا اعادہ کیا ہے۔
عالمی سیاست میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے۔ ایران میں جاری حالات، امریکی و اسرائیلی اقدامات، اور پاکستان، بھارت و دیگر ممالک کے ردعمل نے خطے میں کشیدگی بڑھا دی ہے۔ تلسی گیبرڈ اور اسرائیلی سفیر کے بیانات کی ٹائمنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی اور عسکری مقاصد کو ایک مخصوص روایت اور نظریے کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے۔پاکستان کی مستقل حکمت عملی اور سفارتی کردار نے نہ صرف ایران بلکہ عالمی برادری میں بھی اس کی ساکھ کو موثر اورمضبوط کیا ہے۔ عالمی قوانین کی پاسداری، انسانی حقوق اور خطے میں استحکام کے فروغ کیلئے پاکستان کے اقدامات کو ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔
پاکستان تمام سفارتی چینلز کو متحرک کرچکا ہے۔ جو وقت کا اہم ترین تقاضا بھی ہے۔کیونکہ پاک ایران سرحدیں نہ صرف ملتی ہیں بلکہ دونوں ممالک مضبوط تقافتی ‘ مذہبی سماجی اور سیاسی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔کوئی بھی غلط اقدام نتائج کے اعتبار سے ضرر رساں ثابت ہوگا اور پاکستان اس سلسلے میں اپنے عرب دوستوں کو بھی حالات و واقعات سے مسلسل آگاہ کرکے ایک بہترین کردار نبھا رہا ہے۔ پاکستان اس وقت ایک معتبر ثالث کے طور پر منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ اس نے ابتدائی امریکی اور اسرائیلی جارحیت کی سخت مخالفت کی، مسلسل کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کے لیے زور دیا، اور اس کی سول اور فوجی قیادت کی اعلی سطح کی سفارت کاری خاص طور پر اہم ثابت ہوئی ہے۔
ایک اور پہلو جس کی جانب توجہ مبذول کرانا انتہائی ضروری ہے کہ ایران پر امریکی اسرائیلی جارحیت کو شعیہ سنی کے نقطہ نظر سے نہیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جارحیت قرار دیا جاتا ہے۔یوں صدیوں پرانی فرسودہ سوچ ‘ نظریات اور خیالات کو اب پس پشت ڈال کر ایک ہی نقطہ نظر سے دیکھا جاتا ہے کہ عالمی صہیونت مسلمانوں کو ایک ایک کرکے نشانہ بنارہی ہے اور امت فرقوں اور مسلکوں کی قید سے آزاد ہوکر نئے زایوں اور پیرایوں میں پرکھ رہی ہے جو صحت مند اور مثبت روایات کو جنم دے رہی ہیں۔اس سلسلے میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں تمام مکتبہ فکر ایرانی عوام کیلئے جس ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کررہے ہیں اس نے قرون اولی کی یاد تازہ کی ہیں۔یہی وحدت فکر عالم صہیونت کی موت کا باعث بنے گی۔






