مغربی بنگال: بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کے خلاف خواتین کا احتجاجی مارچ

کولکتہ : بھارتی ریاست مغربی بنگال میں سیکڑوں خواتین دارلحکومت کولکتہ کی سڑکوں پر نکل آئیں اور ایک مسلمان خاتون ڈاکٹر کا نقاب برسرعام بٹانے کے مجرمانہ فعل کے خلاف بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کے خلاف شدید احتجاج کیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے خلاف نعرے درج تھے۔ انہوں نے کمار کے فعل کو خواتین کے وقار اور ذاتی خود مختاری پر سنگین حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ احتجاجی مارچ پارک سرکس سیون پوائنٹ کراسنگ سے شروع کرگریہاٹ کے مقام پر ختم ہوا۔مارچ میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کی ایک بڑی تعداد شریک تھی۔
ترنمول کانگریس کے سینئر رہنما اور کولکتہ کے میئر فرہاد حکیم کی بیٹی پریہ درشنی نے مارچ کے شرکا سے خطاب میں کہا”نتیش کمار نے جو کچھ کیا وہ انتہائی شرمناک تھا۔ تمام لوگوں کو اس پر سخت احتجاج کرنا چاہیے۔“
ایک اور مقرر نے کہا کہ تیش کمار کو معافی مانگنی چاہیے، انہوںنے جو کچھ کیا وہ خواتین کی توہین ہیں، حکام کا کام دوسروں کی عزت کرنا اور انہیں تحفظ دینا ہوتا ہے نہ کہ ان کے جذبات کو مجروح کرنا۔احتجاجی مارچ میں مسلمانوں کیساتھ ساتھ ہندو خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد شریک تھی۔KMS-03/M







