بی جے پی رکن اسمبلی کے کشمیر مخالف بیان پر اسمبلی میں ہنگامہ آرائی
جموں:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بی جے پی کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا کی طرف سے کشمیری مسلمانوں کو زمینوں پر قبضہ کرنے والے قرار دینے کے متنازعہ بیان پر آج قانون ساز اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وکرم رندھاوا نے گزشتہ روز اجلاس کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ کشمیریوں نے جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جے ڈی اے) کی 90 فیصد اراضی پر قبضہ کر رکھاہے۔اس بیان پر آج ایوان میں شدید احتجاج ہوا، کئی جماعتوں کے ارکان نے اس بیان کو تفرقہ انگیز اورتوہین آمیز قرار دیا اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔جیسے ہی وقفہ سوالات ختم ہوا، عوامی اتحاد پارٹی کے رکن شیخ خورشید ، کانگریس کے رکن عرفان حفیظ لون اور افتخار احمد نے یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے شدید احتجاج کیا۔ شیخ خورشید نے کہا کہ رندھاوا نے کشمیریوں پر زمینوں پر قبضے کا الزام لگایا اوروہ خودسرکاری زمین پر قابض ہے۔کانگریس کے رکن عرفان حفیظ لون نے ”چور مچائے شور“اور” کشمیریوں کو بدنام کرنا بند کرو“جیسے نعرے لگائے ۔ افتخار احمد نے کہا کہ بی جے پی کشمیریوں کو بدنام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے انہوں نے پیر پنچال کے علاقے کو بدنام کیا، اب وادی کشمیر کے لوگوں کو بدنام کر رہے ہیں۔نیشنل کانفرنس کے ارکان بھی احتجاج میں شامل ہوئے اور”چور مچائے شور“کے نعرے لگائے۔احتجاج کرنے والے ارکان اسمبلی نے کشمیریوں کو بدنام کرنے پر رندھاوا سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔







