مغربی بنگال: بی جے پی حکومت ریاست کو جلد از جلد ہندو توا کے رنگ میں رنگنا چاہتی ہے
عبدالاضحی سے قبل گائے کے ذبیحہ کے حوالے سے سخت قواعد و ضوابط نافذ
اسلام آباد: بی جے پی نے مغربی بنگال میں حکومت قائم کرتے ہی مسلم مخالف اقدامات اور کارروائیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر دیا ہے ، وہ بہت عجلت میں ہے اور ریاست کو جلد از جلد ہندو توا کے رنگ میں رنگنا چاہتی ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بی جے پی حکومت نے عید الاضحی سے قبل گائے کے ذبیحہ کے حوالے سے سخت قواعد و ضوابط نافذ کر دیے ہیں جن کے تحت کھلے عام جانوروں کے ذبیحہ کو ممنوع قرار دے کر ایک سرکاری سرٹیفکیٹ لازمی کر دیا گیا ہے۔ سڑکوں اور عوامی مقامات پر کھلے عام جانوروں کے ذبیحہ پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 9 ماہ قید، بھاری جرمانہ، یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔مذکورہ قواعد کی خلاف ورزی پر سزاں اور جانوروں کی منتقلی کے حوالے سے سخت حکومتی اقدامات کے بعد ریاست بھر کے مویشی بازاروں اور کسانوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔بی جے پی حکومت کی سخت پالیسیوں، اور گا ئو رکھشا کے نام پر بڑھتی کشیدگی نے مویشی صنعت کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ مویشیوں کی خرید و فروخت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے ۔ بی جے پی وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری نے 1950 کے ویسٹ بنگال اینیمل سلاٹر کنٹرول ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد کیا۔ اس قانون کے تحت 14 سال سے زائد عمر کے جانوروں کے لیے فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا گیا جبکہ گائے کے ذبح پر مزید پابندیاں عائد کی گئیں۔ ہند و توا تنظیموں ویشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل نے گائے کی قربانی کے خلاف احتجاج اور مہمات چلا کر ماحول کو مزید کشیدہ بنا دیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت اور دیگر ہندو توا تنظیموں کی گائے ذبیحہ کے حوالے سے مہم نے نہ صرف مسلمانوں بلکہ غریب ہندو تاجروں اور کسانوں کو بھی شدید معاشی نقصان پہنچایا۔ مولانا شفیق قاسمی اور دیگر مسلم رہنمائوں نے دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ گائے خریدنے کے بجائے بکرے یا بھیڑ کی قربانی کریں تاکہ قانونی تقاضوں اور سماجی جذبات کا احترام کیا جا سکے۔ مغربی بنگال کے مسلم اکثریتی اضلاع مرشد آباد،مالدہاتر دیناج پور۔ شمالی 24 پرگنہ، جنوبی 24 پرگنہ، اور بیر بھوم وغیرہ مکی مویشی منڈیوں میں خریداروں کی تعداد میں 50 سے 70 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔ ہندو گھوش برادری کے تاجر، جو ہر سال عید کے موقع پر زیادہ منافع کے لیے گائیں پالتے تھے، شدید مالی نقصان کا شکار ہوئے۔ عید کے دوران ان گایوں کی قیمت عام دنوں کے مقابلے میں 50, ہزار سے 1 لاکھ تک مزید اوپر جاتی تھی، جس کی وجہ سے یہ ان تاجروں کی سالانہ آمدنی کا اہم ذریعہ تھا۔ کئی خاندان تقریبا 9 لاکھ کےقرض، بڑھتی ہوئی خوراکی لاگت، اور جانوروں کی دیکھ بھال کے اخراجات کے باعث شدید معاشی دبا میں آ گئے۔
مغربی بنگال کی یہ صورتحال بھارت میں گائے کے نام پر ہونے والے تشدد، ہجومی حملوںکے وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ 2015 سے 2018 کے درمیان کم از کم 44 افراد، جن میں 36 مسلمان شامل تھے، بھارت کی 12 ریاستوں میں گا رکھشا کے نام پر ہونے والے 100 سے زائد حملوں میں مارے گئے جبکہ تقریبا 280 افراد زخمی ہوئے۔
رائٹرز کی ایک تحقیق کے مطابق 2010 سے وسط 2017 تک ایسے 63 واقعات میں 28 افراد مارے گئے ہ، جن میں 24 مسلمان تھے، جبکہ 124 افراد زخمی ہوئے، اور ان میں سے 97 فیصد واقعات 2014 کے بعد پیش آئے۔ رائٹرزکی رپورٹوں اور وکی پیڈیاکے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2024 تک گا ئوکھشا سے متعلق 83 واقعات میں 43 اموات اور 157 زخمیوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ان واقعات نے دیہی معیشت کو شدید متاثر کیا، مختلف برادریوں کے تعلقات میں تنا پیدا کیا، اور کسانوں کے احتجاج کو جنم دیا۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ہند و توا کا ناسور بھارت کی مویشی صنعت کو بھی دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔





