تنازعہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا: حریت کانفرنس
سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ کئی دہائیاں گزر چکی ہیں لیکن کشمیری آج بھی حق خودارادیت کے بارے میں ان کے ساتھ کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد کے منتظر ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ تنازعہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے کشمیریوں کے بنیادی حق خودارادیت کو مسترد کرنا اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی 5 جنوری کی قرارداد میں دیے گئے روڈ میپ پر عمل کیا جانا چاہیے۔حریت ترجمان نے کہا کہ بھارت تقریباً 8 دہائیوں سے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔ مودی حکومت فوجی طاقت کے ذریعے کشمیریوں کی جائز جدوجہد کو دبا نہیں سکتی اوربھارت کو یاد رکھنا چاہیے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں اس کی جبر کی پالیسی ناکام ہو کررہے گی۔ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن و استحکام کے لیے تنازعہ کشمیر کے حل میں مدد کرکے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔






