کشمیری تاجر مبین شاہ کی جائیداد کی ضبطی سیاسی انتقام کے سوا کچھ نہیں: ڈی ایف پی

سری نگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے ممتاز کشمیری تاجر اور تحریکِ آزادی کے سرگرم حمایتی ڈاکٹر مبین احمد شاہ کی جائیداد کی ضبطی کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق کے ڈی ایف پی کے ترجمان ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے سرینگر میں جاری ایک بیان کہا کہ مبین احمد شاہ ایک باوقار کاروباری شخصیت ہیں اور وہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت میں طویل عرصے سے آواز بلند کر رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ بھارتی چیرہ دستیوں کی وجہ سے انہیں بیرون ملک جانا پڑا ہے اور آج وہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، لیکن اس کے باوجود بھارتی حکومت ان کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، جو بنیادی انسانی حقوق، انصاف اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں اختلافِ رائے رکھنے والے افراد، آزادی پسند قیادت اور ان کے اہلِ خانہ کو اجتماعی سزا دینے کی پالیسی کے تحت جائیدادوں کی ضبطی، گھروں پر چھاپے، بلاجواز گرفتاریاں، ہراسانی اور معاشی دباو معمول بن چکا ہے۔ ایسے ہتھکنڈوں کا مقصد کشمیری عوام کو خوفزدہ کرنا اور ان کی جائز سیاسی آواز کو دبانا ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ ظلم، جبر اور انتقامی کارروائیوں سے کسی بھی عوامی تحریک کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت بھی جبر و استبداد کی کارروائیوںسے کشمیریوں کو ان کے حقِ خودارادیت کے مطالبے سے ہرگز دستبردار نہیں کر سکتا۔
انہوں نے اقوام متحدہ، عالمی برادری، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموںسے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری سیاسی انتقام، جائیدادوں کی غیرقانونی ضبطی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیںاور کشمیریوں کے حقوق کے تحفظ اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔






