کپواڑہ میں پینے کے پانی کی عدم فراہمی پرقابض حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ضلع کپواڑہ کے علاقے راجواڑ کے رہائشیوں نے پینے کے پانی کے شدید بحران پر قابض حکام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق راجواڑ کے علاقے سلطان پورہ میں سینکڑوں مردوں، خواتین اور بچوں نے قابض حکام کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے سڑک بند کردی اور محکمے کو علاقے میں پینے کے پانی کی عدم فراہمی کا براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگرچہ سلطان پورہ کے لئے زچلدرہ آبی ذخیرے سے پانی کی سپلائی کی علیحدہ لائن موجود ہے لیکن مین لائن سے غیر قانونی کنکشن لگائے جانے کی وجہ سے گاو¿ں کو جان بوجھ کر پانی سے محروم کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ محکمہ خاموش تماشائی بن کر ہماری پریشانیوں کو دیکھ رہا ہے اور پانی کے غیر قانونی کنکشن لینے والوں کے خلاف کچھ نہیں کر رہا ہے۔ ایک خاتون نے کہا کہ ہم طویل عرصے سے مشکلات کا شکار ہیں۔ ان غیر قانونی کنکشنوں نے ہمارے گاو¿ں کو پینے کے پانی سے محروم کر دیا اور محکمہ کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے۔مشتعل مظاہرین کا کہنا تھا کہ مسئلے کو متعدد بار متعلقہ حکام کے نوٹس میں لایا گیا ہے لیکن کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پینے کے پانی کی قلت کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اورلوگ چند بالٹیوں کے لیے لمبا فاصلہ طے کرنے پر مجبور ہیں۔ مظاہرین نے تمام غیر قانونی کنکشن فوری طورپر ہٹانے اور سلطان پورہ کو پانی کی فراہمی فوری بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔مکینوں نے خبردار کیا کہ اگر محکمہ پینے کے پانی کی سپلائی بحال کرنے اور غیر قانونی کنکشنز کو جلد از جلد ہٹانے میں ناکام رہا تو ہم احتجاج میں شدت لائیں گے اور مرکزی سڑک کو بند کر دیں گے۔احتجاجی مظاہرہ کپواڑہ میں انتظامیہ کی جانب سے بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکامی کے خلاف بڑھتے ہوئے عوامی غصے کی عکاسی کرتا ہے، مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پانی پر ان کا حق بدعنوانی اور سرکاری بے حسی کی نذر ہو رہا ہے۔







