مقبوضہ جموں و کشمیر

جیل میں نظر بندظہوروٹالی کا جھوٹے الزامات کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے رجوع

نئی دہلی28مارچ(کے ایم ایس)غیر قانونی طور پر نظربند کشمیری تاجر ظہور احمد وٹالی نے بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے کے زیر تفتیش ایک جھوٹے مقدمے میں ٹرائل کورٹ کی طرف سے عائد کردہ الزامات کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔
جسٹس سدھارتھ مرڈول اور جسٹس تلونت سنگھ پر مشتمل بنچ نے آج اس مقدمے میں این آئی اے سے جواب طلب کیا اور 3مئی 2023کو سماعت مقرر کی۔ این آئی اے نے ظہور وٹالی کو 2017میں اس کیس میںغیر قانونی سرگرمیوںکی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے کی مختلف دفعات کے تحت گرفتار کیا تھا۔ گزشتہ سال مئی میں این آئی اے کورٹ (ٹرائل کورٹ)نے ان کے اور دیگر کے خلاف فرد جرم عائد کردی تھی۔عدالت نے غیر قانونی طور پر نظر بندکل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر شاہ، محمد یاسین ملک، نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار، شاہد الاسلام ،لطاف احمد شاہ، ایاز محمد اکبر، راجہ معراج الدین کلوال، پیر سیف اللہ اور ظہور وٹالی سمیت دیگر کشمیری حریت رہنمائوں اور کارکنوں کے خلاف باضابطہ طور پر فرد جرم عائد کردی تھی ۔ یاسین ملک کو بعد میں اسی کیس میں مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ کشمیری رہنمائوں کوتحریک آزادی کشمیر میں کرداراداکرنے کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

متعلقہ مواد

Leave a Reply

Back to top button
%d