بھارتی نژاد کینیڈین شخص کو منشیات کی اسمگلنگ پر امریکہ میں 20 سال قید کی سزا

واشنگٹن : بھارتی نژاد کینیڈین شہری 63 سالہ گرومرت سدھو کو 9 جولائی 2026 کو امریکہ میں منشیات کی اسمگلنگ کا ایک بڑا نیٹ ورک چلانے کے الزام میں 20 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سدھو ستمبر 2020 سے فروری 2023 کے درمیان ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کا سرغنہ رہاہے جس نے کمرشل ٹرکوں کا استعمال کرتے ہوئے جنوبی کیلیفورنیا سے 850 کلو گرام کوکین اور میتھ امفیٹامائن کینیڈا میں سمگل کی۔امریکی حکام نے آٹھ ٹرکوں کو پکڑا جس میں تقریباً 523 کلو گرام میتھ ایفیٹامائن اور 347 کلو گرام کوکین موجود تھی جس کی مالیت 15 سے 17 ملین امریکی ڈالرز تھی۔ برامپٹن کے رہائشی سدھو کو کینیڈا میں گرفتار کیا گیا اور اکتوبر 2024 میں امریکہ کے حوالے کر دیا گیا۔رواں سال رپورٹ کیے گئے دیگر کیسز میں کوئینز کے 65 سالہ برہمانند پرساد کو مئی 2026 میں کوکین کی تقسیم کی سازش پر تقریباً 23 سال کی سزا سنائی گئی تھی اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ جسکرن سنگھ کو 2025 میں MDMA اسمگلنگ پر 17 سال سے زیادہ کی سزا سنائی گئی تھی۔ دھوکہ دہی اور صحت سے متعلق مقدمات میں بھی کئی افراد کو جیل کی سزا ہوئی ہے جن میں لگنیش کمار ایچ پٹیل کو 7.5 سال کی سزا اور میڈیکیئر فراڈ کیس میں محمد آصف کو 2 سال کی سزا بھی شامل ہے۔جولائی 2026 میں امریکی محکمہ انصاف نے بھارت سے منسلک منظم جرائم کے گروہوں کے خلاف ایک مربوط کریک ڈاون کا اعلان کیا جس میں ایف بی آئی نے اور کینیڈا اور یورپ میں تقریباً 24 گرفتاریاں کی گئیں۔ احمد آباد میں قید 33 سالہ لارنس بشنوئی پر کیلی فورنیا میں منظم جرائم کے گروہ کے مبینہ لیڈر کے طور پر فرد جرم عائد کی گئی جس پر امریکہ، کینیڈا، یورپ اور بھارت میں قتل، بھتہ خوری، منشیات کی سمگلنگ اور دیگر جرائم کا الزام ہے۔ پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا کہ ان کارروائیوں کے لئے جیل سے ہدایات دی گئیں جن میں تاریکن وطن کمیونٹیز کو نشانہ بنایا گیا۔سزاوں اور فرد جرم کا سلسلہ بیرون ملک بھارتی نژاد افراد پر مشتمل بین الاقوامی مجرمانہ سرگرمیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ امریکہ، کینیڈا اور یورپ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے منشیات کی اسمگلنگ، دھوکہ دہی، بھتہ خوری اور سرحدوں کے آر پار کام کرنے والے منظم جرائم کے نیٹ ورکس کے بڑھتے ہوئے واقعات کی نشاندہی کی ہے جس سے تارکین وطن کی حفاظت کے بارے میں تشویش پیدا ہوئی ہے اور ایسے گروہوں کو ختم کرنے کے لیے زیادہ بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے۔






