مقبوضہ جموں و کشمیر میں 10 مقامات پر چھاپے اورتلاشیاں

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قابض حکام نے اپنی ظالمانہ کارروائیاں تیز کرتے ہوئے مختلف اضلاع میں دس مقامات پر چھاپے مارے اورتلاشیاں لیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے کے اہلکاروںنے یہ کارروائیاں سرینگر، کپواڑہ، اسلام آباد، پلوامہ اور بڈگام میں کیں جس سے مقبوضہ علاقے میں پہلے سے موجود خوف اور جبر کی فضا مزید گہری ہو گئی ہے۔تازہ چھاپوں کے دوران مکینوں کو ہراساں کیاگیا اوران سے پوچھ گچھ کی گئی۔ بھارتی ادارے مقبوضہ علاقے میں اپنی فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے سرحدکے آر پار نقل و حرکت کے الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔ بھارتی فورسز اور تحقیقاتی ادارے ان الزامات کو جو ابھی تحقیقات اور عدالتی جانچ کے مراحل سے گزر رہے ہوتے ہیں، گھروں کی تلاشی، خاندانوں کی نگرانی اور لوگوںکو ہراساں کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔یہ تازہ کارروائی مقبوضہ علاقے میں چھاپوں اور محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران کی گئی ہے جس سے یہ خدشات مزید بڑھ گئے ہیں کہ نام نہاد سکیورٹی اقدامات کو وسیع پیمانے پر کشمیری آبادی کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔کشمیری طویل عرصے سے کالے قوانین کے تحت من مانی گرفتاریوں، املاک کی ضبطی، پوچھ گچھ اور پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ بھارتی حکام اور ذرائع ابلاغکنٹرول لائن کے آرپارروابط کے الزامات کو اکثر دہراتے رہتے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کی آڑ میں بڑھتی ہوئی جابرانہ کارروائیاں دراصل اختلافِ رائے کو دبانے اور خوف ودہشت کی فضا کو برقرار رکھنے کے لیے کی جاتی ہیں۔یہ صورتحال مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجی کارروائیوں کی آزادانہ نگرانی اور کشمیری عوام کے خلاف اجتماعی سزا اور جابرانہ اقدامات کے خاتمے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔






