مقبوضہ کشمیر میں اظہاررائے پر عائد پابندی معلومات کے خلاکو مزید گہرا کر رہی ہے، پرویز احمد شاہ
جنیوا : کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جمو ںوکشمیر شاخ کے جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ نے خبردار کیا ہے کہ عوامی اظہارِ رائے، سیاسی سرگرمیوں اور آزادانہ نگرانی پر عائد پابندیاں بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی زمینی صورتِ حال کے بارے میں معلومات کے خلا کو مزید گہرا کر رہی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پر ویز احمد شاہ نے آج جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایجنڈا آئٹم 3 کے تحت اظہار خیال کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام اپنے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیںجسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنی متعدد قراردادوں میں تسلیم کر رکھا ہے۔
انہوں نے مقبوضہ علاقے میں اظہار رائے کی آزادی، حق اجتماع پر عائد پابندیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت علاقے میں جمہوری آزادیوں کی دھجیاں اڑ رہا ہے۔ صحافیوں، سول سوسائٹی کے ارکان اور انسانی حقوق کے محافظوں کی آوازوں کو محدود کیا جا رہا ہے، جس سے زمینی حقائق کو دستاویزی شکل دینے اور رپورٹ کرنے میں دشواریوں کا سامنا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیری عوام کو مکمل طور پر بے اختیار کرنے اور ان سے انکا سب کچھ چھیننے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ کشمیریوں کیلئے سیاسی میدان تنگ اور مقامی اداروں کو کمزور کر دیا گیا ہے جس سے عام شہریوں میں گہری بیگانگی اور بے بسی کا احساس پیدا ہوا ہے۔
پرویز احمد شاہ نے کہا کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور بین الاقوامی میڈیا کو مقبوضہ خطے تک رسائی سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے۔ ”وی پی این انٹرنیٹ کی بندش اور آزادانہ رپورٹنگ پر پابندیوں نے معلومات کا ایک بڑا خلا پیدا کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب آزادانہ نگرانی ممکن نہ ہو، معلومات کے بہاو¿ پر پابندی ہو اور لوگ بے اختیار ہوں تو اس کونسل اور بین الاقوامی برادری کے لیے صورتحال کا واضح ادراک مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعتماد سازی اور تنازعہ کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے شفافیت، شمولیت اورمکالمہ ضروری ہے اور اس لیے اس کونسل کی فوری مداخلت ناگزیر ہے۔








