مقبوضہ کشمیر :بھارتی فوجی خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہے ہیں
جنیوا: انٹرنیشنل مسلم ویمنز یونین نے کہاہے کہ بھارتی فوج اورپیراملٹری اہلکار غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں خواتین کی آبرو ریزی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انٹرنیشنل مسلم ویمنز یونین نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے موقع پر جنیوا سینٹر فار سیکیورٹی پالیسی میں ایک تقریب میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی قابض فورسز کی طرف سے جاری کشمیری خواتین آبرو ریزی کے واقعات روکنے اور ان سنگین واقعات میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ اس موقع پر آبروریزی سے متاثرہ خواتین کی بحالی، وقار، خودمختاری اور انصاف تک رسائی یقینی بنانے پر زوردیاگیا۔ مقررین نے کہا کہ تنازعات میں آبرو ریزی سے متاثرہ خواتین کو طویل عرصے تک جسمانی، نفسیاتی، سماجی اور معاشی اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ بہت سے متاثرین موثر قانونی چارہ جوئی سے محروم رکھا گیا ہے۔
مقررین نے کنن پوش پورہ، شوپیاں اور دیگر علاقوں میں اجتماعی عصمت دری کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متاثرین کو انصاف کی فراہمی میں مسلسل رکاوٹیں پیش آتی رہی ہیں۔ انٹرنیشنل مسلم ویمنز یونین نے مختلف رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مقبوضہ علاقے میں تقریبا 11ہزار خواتین کو جنسی حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ متاثرہ برادریوں کی تقریبا 52فیصد خواتین شدید نفسیاتی صدمے سے دوچار ہیں۔ تنظیم نے اسے انسانی حقوق کا بحران قرار دیتے ہوئے فوری عالمی توجہ، آزادانہ تحقیقات اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی پرزوردیا۔مقررین میں جنیوا میں انٹرنیشنل مسلم ویمنز یونین کی نمائندہ شمیم شال، یونیورسٹی آف کوٹلی آزاد کشمیر کی پروفیسر ڈاکٹر شگفتہ اشرف، یونیورسٹی آف جنیوا کے ایل ایل ایم کے طالب علم سجاد علی، محقق مہرالنسا رحمان، یورپی پارلیمنٹ کی سابق رکن جولی وارڈ اور سونبیا شال شامل تھیں۔مقررین نے معاوضے، طبی بحالی، نفسیاتی معاونت، قانونی چارہ جوئی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی ضمانت پر مشتمل جامع نظام تشکیل دینے کی سفارش کی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس عمل میں آزادانہ تحقیقات اور مقامی ثقافتی تقاضوں کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔شمیم شال نے کہاکہ ازالہ خیرات نہیں بلکہ متاثرین کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا اعتراف اور بحالی کی جانب ایک قدم ہے۔دیگر مقررین نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل، رکن ممالک اور عالمی اداروں پر زور دیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیقات، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی اور متاثرین کے لیے موثر اور قابلِ عمل ازالے کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔







