پاکستان نہ صرف اپنا موثر دفاع کرنے بلکہ جواب دینے اور سزا دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
بھارت اپنی فوجی طاقت میں اضافے کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل خرچ کر رہا ہے
اسلام آباد: فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے پاکستان نہ صرف اپنا موثر دفاع کرنے بلکہ جارحیت کی صورت میں جواب دینے اور سزا دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق عرب ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل کسی ایک ملک پر حملے کی صورت میں تینوں ممالک باہمی مشاورت سے ردعمل کا لائحہ عمل طے کریں گے اور پھر اسی کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی فوجی طاقت میں اضافے کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل خرچ کر رہا ہے، جبکہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کا بنیادی مقصد ملکی دفاع ہے۔ پاکستان اسلحے کی کسی دوڑ کا حصہ بننے کی کوشش نہیں کر رہا۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان کسی بھی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مکمل بھروسہ ہے ۔سیاسی اور فوجی اہداف سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ملک کے سیاسی مقاصد کا تعین سیاسی قیادت کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج اور ریاست کے مقاصد الگ الگ نہیں ہیں۔ پاکستان کے قومی اہداف اور خواہشات کا تعین سیاسی قیادت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
مکہ معاہدے کے تحت پاکستان کے ممکنہ ردعمل سے متعلق سوال پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ دفاعی وعدوں پر عمل درآمد کا عملی طریقہ کار عوام کے سامنے ظاہر نہیں کیا جاتا، کیونکہ فوجی کارروائیوں اور سکیورٹی سے جڑی حساس معلومات خفیہ رکھی جاتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے میں شامل کسی ملک پر حملہ ہونے کی صورت میں ردعمل کی نوعیت کا فیصلہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مل کر کریں گے۔ تینوں ممالک حالات کا جائزہ لینے کے بعد مشترکہ لائحہ عمل طے کریں گے اور پھر اسی فیصلے کے مطابق کارروائی ہوگی۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ مکہ معاہدے پر کسی جانب سے اعتراض سامنے نہیں آیا ۔ عمومی طور پر اسے دفاعی نوعیت کا انتظام سمجھا جاتا ہے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنا اور مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں دفاع سے متعلق دیگر معاہدے بھی موجود ہیں جن میں رکن ممالک ایک دوسرے کو تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانیاں کراتے ہیں۔ مکہ معاہدے کے تحت عملی کارروائی کی تفصیلات بھی سکیورٹی اور فوجی معاملات کا حصہ ہیں، اس لیے انہیں عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا جاتا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کسی بھی ممکنہ کارروائی کے بارے میں حتمی فیصلہ معاہدے کے تینوں رکن ممالک نے مشترکہ طور پر کرنا ہے۔ مکہ معاہدے میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ شامل ہیں اور اس کی بنیادی نوعیت مشترکہ دفاع اور اجتماعی مزاحمت کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کے نام سے بھی واضح ہے کہ اس کا تعلق دفاعی تعاون سے ہے اور اس میں کوئی جارحانہ پہلو شامل نہیں۔ باہمی دفاع کا یہ انتظام تینوں ممالک کے لیے ایک دوسرے کی معاونت کا ذریعہ ہے، نہ کہ کسی دوسرے ملک یا اتحاد کے خلاف اقدام۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ مکہ معاہدے میں شامل پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے آزادانہ اور الگ تعلقات برقرار رکھیں گے۔ مشترکہ دفاعی تعاون ان ممالک کے دیگر بین الاقوامی تعلقات یا اتحادوں کا متبادل نہیں بلکہ معاون نوعیت کا انتظام ہے۔






