امریکہ : خالصتان نواز سکھ رہنما گرپتونت کو جان کے خطرے کا سامنا
واشنگٹن: خالصتان حامی ممتاز سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنن نے کہا ہے کہ امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی )نے انہیں خبردار کیا ہے کہ ان کی جان کو فوری خطرہ لاحق ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، امریکہ میں قائم تنظیم ‘سکھ فار جسٹس (ایس ایف جے )کے رہنما پنن نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ایف بی آئی کے اہلکار 15 اکتوبر کو نیویارک شہر میں ان کی رہائش گاہ پر آئے اور انہیں اس خطرے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتباہ خاص طور پر ان کے کینیڈا کے طے شدہ دورے سے متعلق ہے جہاں ایڈمنٹن شہر میں ‘سکھ فار جسٹس کی جانب سے کل خالصتان ریفرنڈم کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
پنن جنہیں امریکہ اور کینیڈا کی شہریت حاصل ہے اور ‘سکھ فار جسٹس’ کی جنرل کونسل قانونی مشیرہیں، اس ریفرنڈم میں شرکت کے لیے امریکہ سے کینیڈا جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہیں رائل کینیڈین پولیس کی جانب سے بھی جان کو لاحق خطرات کے بارے میں انتباہ موصول ہوا ہے۔
یاد رہے کہ پنن کو 2023 میں نیویارک میں قتل کرنے کی ایک ناکام سازش سامنے آئی تھی۔ سازش کے سلسلے میں ایک بھارتی نژاد شہری نکھل گپتا کو گرفتار کیا گیا تھا جس نے رواں برس فروری میں امریکی وفاقی عدالت میں اس سازش میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق، گپتا نے بھارتی حکومت کے ایک ملازم، وکاش یادو کی ہدایت پر کام کیا۔ یادو بھارت کے کیبنٹ سیکریٹری میں تعینات تھا۔ محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ مئی 2023 میں، یادو نے پنن کو قتل کروانے کے لیے گپتا کو بھرتی کیا۔ استغاثہ کے مطابق اس منصوبے میں ایک لاکھ ڈالر کی ادائیگی شامل تھی، جس میں سے 15 ہزار ڈالر پیشگی ادا کیے گئے۔ اس سے پہلے کہ قتل کی کارروائی عمل میں آتی، اس سازش کو ناکام بنا دیا گیا۔
سکھ فار جسٹس کا کہنا ہے کہ کینیڈا میں خالصتان ریفرنڈم کے دیگر منتظمین کو بھی حالیہ مہینوں میں دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔جون 2023 میں برٹش کولمبیا کے شہر سرے میں سکھ کارکن ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے بعد، بیرونِ ملک مقیم سکھ کارکنوں کو درپیش خطرات پر ایک بار پھر توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔ ہردیپ سنگھ کے قتل کے واقعے نے کینیڈا اور بھارت کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا کر دی تھی۔







