سرینگر: میر واعظ کی بھارتی ریاست ہریانہ میں کشمیر جانے والی مسافر بس پر حملے کی مذمت
سرینگر: بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں مختلف سیاسی رہنماؤں نے بھارتی ریاست ہریانہ سے سرینگر جانے والی ایک مسافر بس پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعے میں ایک معمر مسافر زخمی ہوا، جبکہ دیگر مسافر شدید صدمے اور خوف و دہشت سے دوچار ہیں۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’ہریانہ میں کشمیر جانے والی بس پر حملے کے بارے میں جان کر دکھ ہوا، جس میں ایک معمر مسافر زخمی ہو گیا۔ جموں و کشمیر میں رجسٹرڈ گاڑیوں کو دھمکیاں ملنے کی اطلاعات سے لوگوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ حکام کو کشمیری مسافروں کی حفاظت یقینی بنانی چاہیے اور ذمہ داروں کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کرنی چاہیے۔‘‘
عوامی اتحاد پارٹی (اے آئی پی) کے ترجمان انعام نبی نے ہریانہ کے وزیرِ اعلیٰ نایاب سنگھ سینی کو خط لکھ کر واقعے کی ایف آئی آر درج کرنے، ذمہ داروں کو گرفتار کرنے اور بس کو پہنچنے والے نقصان کا معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیرِ اقتدار بھارتی ریاست ہریانہ میں نامعلوم افراد نے سرینگر جانے والی ایک مسافر بس پر حملہ کیا۔ بس میں تقریباً 40 افراد سوار تھے۔ حملہ آوروں نے بس پر پتھر اور اینٹیں پھینکیں۔ اس واقعے میں ایک بزرگ کشمیری مسافر زخمی ہوا، جبکہ دیگر مسافروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔






