بھارت

امریکی قانون سازوں کا بھارت میں غیر قانونی حراستوں پر وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کو خط

واشنگٹن: امریکی کانگریس کی رکن پرمیلا جے پال سمیت چھ قانون سازوں نے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کو ان کے دورۂ بھارت کے تناظر میں ایک مشترکہ خط ارسال کیا ہے، جس میں طلبہ کے احتجاج کے دوران سکیورٹی فورسز کی جانب سے جبر و تشدد، غیر قانونی حراستوں اور طاقت کے بے جا استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

قانون سازوں نے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو پر زور دیا کہ وہ بھارتی حکومت پر اس معاملے کی جامع، شفاف اور آزادانہ تحقیقات شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔ انہوں نے بلاجواز اور غیر قانونی حراستوں پر تشویش ظاہر کرنے کے علاوہ اس جانب بھی توجہ دلائی کہ بھارتی سفارت خانے اور قونصل خانوں کے ملازمین اور ان سے رابطے میں رہنے والے افراد کے ذریعے امریکی سرزمین پر اپنے بنیادی حقوق استعمال کرنے والے لوگوں کی نگرانی اور انہیں ہراساں کرنے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

قانون سازوں نے روبیو پر زور دیا کہ وہ بھارت کے اپنے طے شدہ دورے کے دوران اپنے بھارتی ہم منصب کے ساتھ یہ خدشات اٹھائیں۔

خط میں بھارت میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرِ ثانی (ایس آئی آر) پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ قانون سازوں نے کہا کہ اس طریقۂ کار میں شفافیت کا فقدان ہے۔

قانون سازوں نے مارکو روبیو سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی حکومت پر زور دیں کہ احتجاج کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی جائیں۔ انہوں نے پُرامن اظہارِ رائے اور اجتماع کے حقوق استعمال کرنے کی پاداش میں حراست میں لیے گئے افراد کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔

خط پر دستخط کرنے والوں میں پرمیلا جے پال کے علاوہ جیمز پی میک گورن، جیسس جی چوئی گارسیا، الہان عمر اور راشدہ طلیب سمیت چھ قانون ساز شامل ہیں۔ مارکو روبیو 17 سے 22 اکتوبر تک ازبکستان اور بھارت کا دورہ کر رہے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button