مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالات معمول کے مطابق ہونے کا دعویٰ گمراہ کن اور سفید جھوٹ ہے : حریت کانفرنس
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت علاقے کی سنگین صورتِ حال کے حوالے سے دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے امن اور حالات معمول کے مطابق ہونے کا سفید جھوٹ بول رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ علاقے میں سکیورٹی کی صورتِ حال بہتر ہونے کے بارے میں بی جے پی حکومت اور اس کے فوجی اداروں کے دعوے محض ایک ظالمانہ مذاق ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت اور اس کی انتظامیہ کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں معمول کے حالات بحال ہونے کے دعوے روزانہ ہونے والی ہلاکتوں، محاصرے اور تلاشی کی پرتشدد کارروائیوں، گھروں پر چھاپوں اور کالے قوانین کے تحت من مانی گرفتاریوں سے بے نقاب ہو چکے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی، نعیم احمد خان، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، مولوی بشیر احمد عرفانی، بلال احمد صدیقی، مشتاق الاسلام، ایڈووکیٹ میاں عبدالقیوم، اسداللہ پرے، فاروق احمد توحیدی، غلام محمد خان سوپوری، فیاض احمد رضوی، محمد یاسین بٹ، محمد سلیم نناجی، محمد احسن انتو، عمر عادل ڈار، عادل سراج زرگر، داود فیاض زرگر اور دیگر ہزاروں کشمیری من گھڑت الزامات کے تحت جیلوں میں نظربندہیں۔
ترجمان نے کہا کہ نظربند کشمیریوں کو نہ تو عدالتوں میں پیش کیا جا رہا ہے اور نہ ہی ان کے خلاف درج جھوٹے مقدمات میں کوئی قانونی کارروائی شروع کی جا رہی ہے بلکہ ان کی نظربندی کو مسلسل طول دیا جا رہا ہے۔ قیدیوں میں ایسے بہت سے افراد بھی شامل ہیں جنہیں اپنی سزائیں مکمل کرنے کے باوجود جیلوں میں رکھا گیا ہے۔
ترجمان نے کہاکہ مودی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر کے بارے میں اپنے جھوٹے بیانیے کو فروغ دینے کے لیے حقائق کو مسخ کرنے اور سچائی کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ انسانی حقوق کے کارکنوں پر کالے قوانین کا اطلاق اور غیر قانونی نظربندیاں بی جے پی حکومت کے دعوو¿ں کی نفی کرتی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ جب تک کشمیریوں کو ان کا ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت نہیں دیا جاتا، خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے کہ عوام کی وسیع حمایت رکھنے والی حقیقی آزادی کی تحریکوں کو طاقت کے بے دریغ استعمال یا لوگوں کو جیلوں میں ڈالنے سے دبایا نہیں جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی حکمرانوں کی جانب سے کشمیری عوام کی آواز دبانے کے لیے نوآبادیاتی دور کے فرسودہ ہتھکنڈے ماضی میں کامیاب ہوئے ہیں اور نہ ہی مستقبل میں کامیاب ہوں گے۔ بیان میں کہا گیا کہ بھارت کو زمینی حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ کشمیر ایک سیاسی تنازعہ ہے، جسے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
حریت ترجمان نے افسوس کا اظہار کیا کہ بھارتی قبضے نے جموں و کشمیر کو دنیا کے سب سے زیادہ فوجی جماﺅ والے علاقے میں تبدیل کر دیا ہے اور کشمیریوں سے ان کی شناخت اور حقِ زندگی سمیت تمام حقوق چھین لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کو اقوام متحدہ کے مبصرین اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو مقبوضہ جموں و کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت دینی چاہیے تاکہ وہ وہاں کی زمینی صورتِ حال کا جائزہ لے سکیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کا قیام ایک خواب ہی رہے گا۔







