مقبوضہ جموں وکشمیر میںسحر خوانوں نے لوگوں کو جگانے کی پرانی روایت کو زندہ رکھا ہے

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں ماہ رمضان شروع ہونے کے ساتھ ہی شہروں ، قصبوں اوردیہات میں” سحر خوانوں”نے لوگوں کوسحری پر جگانے کے لئے ڈھول بجا نے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق شہروں اور قصبہ جات میںدور دراز دیہاتوں سے آنے والے سحرخوانوںنے موبائل فون اور الارم کلاک جیسے جدید آلات کی موجودگی باوجود پرانی روایت کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ کشمیریوں کو سحری پر جگانے کی خاطر یہ لوگ قدیم زمانے سے ڈھول بجاتے ہیں اورانہوں نے اس روایت کو آج بھی زندہ رکھا ہے۔برزلہ سرینگر کے ایک رہائشی محمد شفیع میر نے بتایا کہ مقدس مہینے میں سحر خوانوں کا ایک اہم کردار ہوتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم نماز تراویح رات ساڑھے دس بجے کے قریب ختم کرتے ہیں اور جب ہم سوتے ہیں تو چند گھنٹوں بعد آپ کو ڈھول کی آوازدوبارہ جگاتی ہے ۔ موبائل یا گھڑی کے الارم کے برعکس آپ ڈھول کی آواز کو بند نہیں کر سکتے۔ محمد شفیع میر نے کہاکہ ہر سحرخوان ایک یا دو محلوں کا ایک علاقہ لے لیتا ہے، کچھ لوگوں کے لیے یہ روزی روٹی کا اورکچھ کے لئے محض ثواب کمانے کا ذریعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ان میں سے بہت سے لوگ 11مہینے رمضان کا انتظار کرتے ہیں کیونکہ اپنے اہل خانہ کو پالنے کے لئے اس مہینے کی کمائی پورے سال کام آتی ہے۔ ضلع کپواڑہ کے علاقے کلارس سے تعلق رکھنے والے عبدالمجید خان نے بتایاکہ میں ایک دور دراز علاقے سے ہوں اور یہی میرا ذریعہ معاش ہے۔ میں بقیہ سال ایک مزدور کے طور پر کام کرتا ہوں، لیکن ان 11مہینوں کی کمائی اب بھی اس سے کم ہے جو میں رمضان میں کماتا ہوں۔گزشتہ20سال سے ڈھول بجانے والے عبدالمجید خان نے بتایا کہ ان کا کام صبح 3 بجے شروع اور 5بجے ختم ہوتا ہے۔لوگ ہمیں رمضان کے اختتام پر دل کھول کر پیسے دیتے ہیں۔ محمد محبوب کھٹانہ نے جوگزشتہ 22سال سے ہر رمضان میں سرینگر آ تے ہیں، کہا کہ جہاں وہ اپنے خاندان کے لیے روزی روٹی کما رہے ہیں، وہیں انہیں اللہ تعالیٰ سے لوگوں کو سحری کے لیے جگانے کے نیک عمل کا اجر ملنے کی بھی امید ہے۔ گزشتہ50سال سے یہ کام کرنے والے بزرگ غلام رسول پائر پرانے شہر کی ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مالی فوائد ایک بونس ہیں کیونکہ ان کا بنیادی مقصد لوگوں کی خدمت کرنا ہے۔ میں یہ کام گزشتہ 50سال سے کر رہا ہوں۔ میں پیسوں کے لیے لوگوں کو نہیں جگاتا، کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ اس سے بڑا انعام اللہ تعالی کی طرف سے ملنے والا اجرہے۔







