جائیداد ضبط

مقبوضہ جموں وکشمیرمیں مزید چار کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں لیفٹیننٹ گورنر کی زیر قیادت نئی دہلی کی مسلط کردہ انتظامیہ نے مقامی آبادی کی جائیدادوں پر قبضے کی مہم کو تیز کرتے ہوئے مزید چارکشمیریوں کی جائیدادیں ضبط کرلی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے ”این آئی اے” نے پیراملٹری سنٹرل ریزرو پولیس فورس اور مقامی پولیس کی مدد سے ضلع پلوامہ میں پامپور کے علاقے فرستہ بل میں اویس فیروز میر کی کئی مرلے کی زمین ضبط کر لی۔بھارتی پولیس نے بتایاکہ اویس فیروز میر کے خلاف پامپور پولیس سٹیشن میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون کے تحت مقدمہ درج ہے۔
دریں اثناء بھارتی حکام نے ضلع بارہمولہ میں نوپورہ تجرکے رہائشی ارشد احمد تیلی اور سوپور کے علاقے ہارون کے فردوس احمد ڈار اور نذیر احمد ڈارکی 29مرلہ اراضی بھی ضبط کر لی ہے۔یہ ضبطی پولیس اسٹیشن سوپور میں ان کے خلاف درج ایک جھوٹے کیس کے سلسلے میں کی گئی ہے۔اگست 2019میں مقبوضہ جموں وکشمیرکی خصوصی حیثیت کی غیر قانونی منسوخی کے بعد مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت نے کشمیریوں کی جائیدادوں پر قبضہ کرنے کی مہم تیز کردی ہے۔یہ پالیسی ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ مقامی آبادی کو معاشی طور پر کمزورکیا جائے اور بھارت کے ہند و شہریوں کو علاقے میں آبادکرکے خطے میں آبادی کا تناسب تبدیل کیا جائے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button