بھارت معرکہ حق کبھی بھلا نہیں سکے گا، دوبارہ حملہ کیا تو بلا جھجھک جواب دیا جائے گا:فیلڈ مارشل
کراچی: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ ترقی کے لیے عوام، حکومت اور افواج کے درمیان مضبوط تعلقات ناگزیر ہیں، بھارت اپنی فوجی طاقت، قوم پرستی اور جعلی اسٹریٹجک اہمیت سے سیاسی فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پی این ایس رہبر کراچی میں پاک بحریہ کی 123ویں مڈ شپ مین اور 31ویں شارٹ سروس کمیشن کی پاسنگ آئوٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ دوست ممالک کے پریڈس کو مبارک باد دیتا ہوں، میری ٹائم واریئرز کی شاندار پاسنگ آئوٹ کا معائنہ میرے لیے اعزاز ہے۔انہوں نے کہاکہ حق خودارادیت کے حصول میں کشمیری عوام کے ساتھ ہیں، خطے میں پائیدار امن مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ناممکن ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر کے مسئلے کو دبایا نہیں جاسکتا بلکہ اسے کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے کے امن کیلیے بات چیت چاہتا ہے مگر کوئی شک نہ رہے کہ ہم اپنا دفاع کریں گے اور ہر صورت اپنے مادر وطن کے دفاع کو یقینی بنائیں گے۔فیلڈ مارشل نے کہا کہ بھارت کو مسلح افواج کے پرعزم جواب سے قومی وقار مضبوط ہوا اور بھارت کا غرور خاک میں مل گیا، ہمارا مستقبل روشن ہے۔ خطے میں پاک بحریہ کیلیے میری ٹائم وار فیئر چلینجز بڑھ رہے ہیں۔فیلڈ مارشل نے کہا کہ بھارت نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور دو بار پاکستان پر حملہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بھرپور اور موثر جواب نے خطے کو بڑے تنازعے سے بچایا جبکہ بھارت کی اشتعال انگیزیوں کے باوجود پاکستان نے صبر و تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کر کے امن کو ترجیح دی، جس کی وجہ سے پاکستان آج خطے میں نیٹ ریجنل سٹیبلائزر کے طور پر جانا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر دشمن سمجھتا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر حملے برداشت کرے گا تو یہ خطرناک غلط فہمی ہے، دشمن نے ہماری خودمختاری کو چیلنج کیا تو نتائج کی ذمہ داری اسی پر ہوگی اور دشمن کا یہ اقدام پورے خطے کیلیے خطرناک ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر حال میں اپنی خود مختاری اور مفادات کا دفاع کرے گا اور کسی قسم کی جھجھک نہیں دکھائے گا، کسی بھی قیمت پر اپنی دھرتی کے تحفظ کیلیے تیار ہیں۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ بھارت معرکہ حق اور اس میں ہونے والی شکست کو کبھی بھول نہیں سکے گا۔فیلڈ مارشل نے کہا کہ ہمارا قومی جذبہ آزمائشوں کے دوران اور بھی مضبوط ہوا، آج ہم پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور پرعزم ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔







