جب ہم تحریک آزادی کشمیر کے تاریخی پس منظر کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو ہر دور میں کشمیری غیورعوام نے خاک و خون کے دریا عبور کر کے اپنی تحریک کو زندہ رکھا ہے 1931میں ابھی تحریک آزادی ابتدائی مراحل میں تھی ان کے پیش نظر ایک بڑی تحریک کے آغازکا کوئی منصوبہ فی الحال نہ تھا لیکن اسی دور میں دو ایسے واقعات پیش آئے جنہوں نے مسلمانان کشمیر کو از خود ایک ایسی تحریک سے واقف کر دیا جو آگے چل کر تحریک آزادی کا نقطہ آغاز ثابت ہوئی۔اس میں پہلا واقعہ خطبہ عید کی بندش کا ہے اور دوسر توہین قرآن کا،پہلا واقعہ جو پیش آیا وہ 29اپریل 1931کا واقعہ ہے اس دن عید تھی اور مسلمانان جموں بڑی تعداد میں نماز عید پڑھنے کے لئے عید گاہ میں جمع ہوئے خطیب صاحب خطبہ عید میں موسی علیہ سلام اور فراعون کی داستان بیان کر رہے تھے ڈوگرہ ڈی ائی جی کو گمان ہوا کہ فرعون کے نام سے ڈوگرہ مہا راجہ ہری سنگھ پر تنقید کی جارئی ہے لہذا اس نے ایک پولیس انسپکٹر کو ہدایت کی کہ وہ خطبہ روک دے یو ں زبردستی خطبہ عید کو روک دیا گیا دین میں اس کھلی مداخلت نے مسلمانان جموں کو تڑپا کے رکھ دیااور وہ سراپا احتجاج ہوگئے اس جلوس کی قیادت چوہدری غلام عباس کی ینگ مینز ایسوسی ایشن نے کی۔لیکن انہیں دنو ایک اور واقعہ رونما ہوگیا سنڑر جیل جموں میں ایک ھندو کانسٹپل لبھو رام نے قرآن پاک کی توہین کی جب یہ خبر جیل سے باہر پہنچی تو پوری ریاست میں ایک کہرام مچ گیا اور احتجاج کی لہر اس قدر شدید تھی کہ ہری سنگھ بوکھلا اٹھا اس نے مسلمانوں پر بے انتہا مظالم ڈھائے لیکن احتجاج کا سلسلہ نہ رکا مسلمانو ں نے باہمی مشاورت سے یہ فیصلہ کیاکہ ایک وفد تشکیل دیا جائے جو مہاراجہ سے ملاقات کرے۔ ابھی مسلمان ملاقات کی تیاری ہی کر رئے تھے اسی دوران ایک اور واقعہ پیش آگیا جس نے حالات کا روخ ہی بدل کر رکھ دیا یوں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کو منظور نہ تھا کہ مسمانوں کی صدیوں بعد پیدا ہونے والی بیداری کی لہرمزاکرات کی نظر ہوجائے چنانچہ ربلعزت نے اس تحریک کو زندہ رکھنے کے لئے ایسا سامان پیدا کر دیا جس کا کشمیریو ں کو وہم و گمان بھی نہ تھا۔خانقاہ معلی میں میرواعظ مولانا یو سف شاہ اور شیخ عبداللہ تقریر کر رئے تھے ایک جوان عبدالقدیر خان اٹھا اس نے پر جوش انداز میں تقریر شروع کر دی مسلمانو اب وقت آگیا ہے اینٹ کا جواب پتھر سے دو یاداشتوں اور گزارشوں سے ظلم کا دور ختم نہیں ہو گا اور نہ ہی توہین قرآن کا مسلہ حل ہو گا انہوں نے راج مہل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اس کی اینٹ سے اینٹ بجادویہ اس احتجاج کی آخری تقریرتھی لوگ جب گھروں کو روانہ ہوئے تو ان کے دل جزبہ ایمانی سے معمور تھے، ڈوگرا سرکار نے عبدالقدیر خان کے خلاف مقدمہ درج کر دیا اس ظالمانہ اقدام سے مسلمانان جمو ں کشمیر برانگیختہ ہو گئے انہوں نے جامعہ مسجد سرینگر میں جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا اس جلسے میں تقریبا ایک لاکھ فرزندان کشمیر نے شرکت کی اور عبدالقدیر کی رہائی کا مطالبہ کیا۔مقدمے کی سماعت 13جولائی 1931کو سنٹر جیل کے احاطہ میں ہوئی عبدالقدیر کے خلاف انتقامی کاروئی سے مسلمانوں کے جزبات کو شدید صدمہ پہنچالوگوں کے ایک بڑے ہجوم نے جیل کے باہر جمع ہوکر احتجاج شروع کر دیا اسی اثنا ء میں نماز کا وقت ہوگیا فرزندان اسلام نماز کی تیاری میں مصروف ہو گئے ظالم ڈوگرہ پولیس نے ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جس سے 22فرزندان کشمیرجام شہادت نوش فرما گئے اس دن کو خونی لکیر کے آرپار اور پوری دنیا میں کشمیری یوم شہدا کشمیر کے نام سے مناتے ہیں اور اس عزم کی تجدید کرتے ہیں کہ شہدا کے ادھورے مشن کی تکمیل تک جدوجہد آزادی جاری وساری رکھی جائے گی ۔
؎ جفاکی تیغ سے گردن وفا شعاروں کی
کٹی ہے برسر میداں لیکن جھکی تونہیں۔







