مودی پر جنگی جنون سوا ر ہے ،بھارت جنوبی ایشیا کے امن کیلئے بڑا خطرہ ہے،وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ

اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مودی پر جنگی جنون سوار ہے، بھارتی اقدامات سے جنوبی ایشیاء کے امن کو خطرہ لاحق ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق وزیراطلاعات نے انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے زیر اہتمام اسلام آباد میں جنوبی ایشیا میں قیام امن پر پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارت جنوبی ایشیا کے امن کیلئے بڑا خطرہ ہے، بھارت پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے، پہلگام واقعہ کا پاکستان پر بے بنیاد الزام عائد کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان نے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی تو بھارت نے اس کا جواب دینے کی بجائے ہم پر جنگ مسلط کر دی ۔انہوں نے کہاکہ بھارت پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، پانی ہماری بقا ہے، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔وزیراطلاعات نے کہاکہ امن کی خواہش رکھنے کے باوجود ہم نے ثابت کیا کہ ہم بلا اشتعال جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عطا تارڑ نے کہاکہ معرکہ حق کے بعد مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر دوبارہ زندہ ہو گیا ہے، مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم آج بھی امن کے خواہاں ہیں، کشمیر سمیت تمام معاملات کا پرامن حل چاہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ کشمیر ایک حل طلب تنازع ہے ۔ پاکستان نے دنیا میں یہ ثابت کیا ہے کہ ہم پرامن ملک ہیں ۔ اللہ اس خطے میں امن کو قائم رکھے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان قربانیاں دے کردنیا کو دہشتگردی سے بچا رہا ہے۔ پاکستان پر پہلگام واقعے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشاہد حسین سید نے کہا کہ حالیہ دورمیں بھارت نے اپنی مس کیلکولیشن کے باعث، عسکری، سیاسی اور سفارتی محاذوں پر نقصان اٹھایاہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ وہ امریکی صدر ہیں جو امریکی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی نمائندگی نہیں کرتے۔ وہ جنگوں کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دور کا تیسرا سب سے بڑا فیکٹر چین ہے۔ موجودہ دورمیںسہ فریقی اتحاد بنے ہیں۔ پاکستان، افغانستان چین، دوسراپاکستان بنگلا دیش اور چین ہے جبکہ تیسرا سب سے اہم کام ترکمانستان، افغانستان اور پاکستان کے مابین ریل نیٹ ورک پر معاہدہ ہونا ہے۔ جنوبی ایشیا ایک نئی طاقت بننے جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت صرف مودی اور آرایس ایس کا نام نہیں ایک ملک ہے۔ بھارت کو سفارتی، سیاسی اور میڈیا کے ذریعے اپنی طاقت کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ امریکی سسٹم بھارت کی حمایت میں ہے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت کو مزاحمت کا سامنا ہے۔ صدر ٹرمپ نے پاکستان کے لیے ٹیرف ختم کرکے پاکستان کے ساتھ تجارت روابط مضبوط کیے۔مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ مودی اور آر ایس ایس کی پاکستان مخالف آئیڈیا لوجیکل خارجہ پالیسی ہے۔ پاکستان موجودہ حالات میں اسٹریٹیجک اسپیس فائدہ اٹھائے گا۔پالیسی ڈائیلاگ سے سابق سیکرٹری خارجہ جوہر سلیم اورسابق ایڈوائزر نیشنل سکیورٹی ڈاکٹر معید یوسف نے بھی خطاب کیا۔





