مضامین

سید علی گیلانی — حریت و استقامت کی علامت

کے ایس کشمیری


ہر قوم کی تاریخ میں کچھ ایسے عظیم لوگ پیدا ہوتے ہیں جو نہ صرف اپنی قوم کی آواز بن جاتے ہیں، بلکہ مظلوموں کے لیے امید کا چراغ اور ظالموں کے لیے للکار بن کر اُبھرتے ہیں۔ کشمیر کی تاریخ میں اگر کوئی ایک نام آزادی کی جدوجہد کا استعارہ ہے، تو وہ ہے سید علی گیلانی۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کے لیے وقف کیا۔ وہ اس وقت بھی ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے رہے جب اکثر لوگ خاموشی کو تحفظ کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ جیلیں، نظربندیاں، اور ظلم کی ہزاروں داستانیں، سب ان کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔ وہ نہ جھکے، نہ بکے، اور نہ ہی کسی دباؤ کے سامنے خاموش ہوئے۔

سید علی گیلانی 29 ستمبر 1929 میں کشمیر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز 1950 کی دہائی میں کیا سید علی گیلانی نے ہمیشہ واضح اور دو ٹوک مؤقف اختیار کیا۔ ان کا نعرہ تھا
"ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے”
یہ نعرے اُن کے خون میں رچے بسے تھے۔ یہ محض الفاظ نہیں، بلکہ اُن کی پوری زندگی کا خلاصہ تھے۔ وہ پاکستان سے صرف جذباتی طور پر نہیں بلکہ نظریاتی طور پر جُڑے ہوئے تھے۔ سید علی گیلانی پر بھارت ہمیشہ کبر و غرور کے ساتھ ظلم ڈھاتا رہا۔ اُنہیں بارہا قید و بند کی صعوبتوں میں ڈالا گیا، نظر بند رکھا گیا اور اُن کی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن بھارتی جبر کے باوجود گیلانی صاحب اپنے موقف پر ثابت قدم رہے اور کبھی ظلم کے سامنے جھکے نہیں۔ اُن کی استقامت نے یہ ثابت کیا کہ سچائی کو طاقت اور غرور سے دبایا نہیں جا سکتا۔

سید علی گیلانی نے نہ صرف سیاسی سطح پر بلکہ اخلاقی اور فکری سطح پر بھی اپنی قوم کی رہنمائی کی۔ سخت بیماریوں اور بڑھاپے کے باوجود اُن کا جذبہ جوانوں سے زیادہ توانا تھا۔ ان کی جرات ایسی تھی کہ قابض طاقتیں بھی ان کے مؤقف سے خائف رہتی تھیں۔ انہوں نے اپنی قوم کو غلامی کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا حوصلہ دیا، اور بتایا کہ سچائی کی راہ کتنی ہی کٹھن کیوں نہ ہو، کامیابی آخرکار حق ہی کی ہوتی ہے۔ سید علی گیلانی نے اپنی جدوجہد اور استقلال سے کشمیری عوام، خصوصاً نوجوانوں کے دلوں میں ایک نئی روح پھونک دی۔ اُنہوں نے ظلم و جبر کے سائے تلے پرورش پانے والی نسل کو حوصلہ، ہمت اور قربانی کا وہ جذبہ دیا جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ گیلانی صاحب کی ولولہ انگیز قیادت نے نوجوانوں کو اپنی سرزمین اور اپنی شناخت کے تحفظ کے لیے بیدار کیا، اور اُن کے دلوں میں آزادی کی شمع روشن کی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی اُن کا نام کشمیری تحریک آزادی کا استعارہ سمجھا جاتا ہے۔
سید علی گیلانی یکم ستمبر 2021 کو سری نگر میں اپنے گھر پر نظر بندی کے دوران وفات پا گئے۔ سید علی گیلانی کی وفات بھارتی نظر بندی کے دوران ہوئی اور اُن کا جنازہ بھی سخت پابندیوں کے سائے میں ادا کیا گیا۔ کشمیری عوام نے اُن کی میت پر پاکستانی پرچم ڈال کر اپنی محبت اور وابستگی کا اظہار کیا۔ جنازے میں "پاکستان سے رشتہ کیا، لا الہ الا اللہ” کے نعروں سے فضا گونج اٹھی، جس نے کشمیری عوام کے جذبات کو واضح کر دیا۔ بھارتی فورسز نے جنازے میں شرکت کرنے اور پاکستان کے حق میں نعرے بلند کرنے والے درجنوں افراد کو گرفتار کیا، مگر عوامی جوش و جذبے کو دبانے میں ناکام رہے۔

آج جب ہم قائد تحریک سید علی گیلانی کی چوتھی برسی مناتے ہیں، تو یہ دن صرف یادگار نہیں بلکہ تجدیدِ عہد کا دن بھی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی کی راہ میں قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔ گیلانی صاحب ہمیں یہ سبق دے گئے کہ حق کے لیے ڈٹ جانا ہی اصل کامیابی ہے، چاہے حالات کتنے ہی ناموافق ہوں سید علی گیلانی جسمانی طور پر ہمارے درمیان نہیں، مگر ان کا مشن، ان کی سوچ، ان کی جدوجہد آج بھی ہر کشمیری کے دل میں زندہ ہے۔ وہ ایک فرد نہیں، ایک تحریک تھے۔ ایک روشنی تھے جو اندھیروں میں رہنمائی کرتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ہمیں ان کے مشن کو جاری رکھنے کی توفیق دے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button