مضامین

بھارت: بی جے پی کا نیا ہتھیار، نفرت، تعصب اور ‘نمک حرام’ کی سیاست

محمد شہباز


بھارت، جو پوری دنیا میں سب سے بڑی جمہوریت کا ڈھنڈورہ پیٹتا ہے، آج ایک ہندوتوا نظریاتی دوراہے پر کھڑا ہے۔ جہاں ایک طرف "سب کا ساتھ، سب کا وکاس” جیسے مودی کے نعرے ہیں، وہیں دوسری طرف مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں، کے خلاف نفرت، تعصب اور تشدد پر مبنی سیاسی بیانیے کو بڑی سرعت کیساتھ فروغ دیا جا رہا ہے۔ بی جے پی ، جو بظاہر قومی ترقی اور ہندوتوا ایجنڈے پر قائم ہے، درحقیقت ایک ایسے سیاسی منصوبے پر کام کر رہی ہے جس میں مذہبی اقلیتوں کو ہر حال میں دیوار کیساتھ لگا کر اکثریتی ووٹ بینک کو متحد رکھا جانا مقصود ہے۔ ہندوتوا نظریہ اور بی جے پی کی سیاسی حکمتِ عملی کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ اس کے نظریاتی منبع، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ RSS کی بنیادوں پر نگاہ ڈالی جائے۔ RSS کی تشکیل 1925 میں عمل میں آئی، اس کا مقصد ایک ایسا بھارت بنانا تھا جہاں ہندو تہذیب کو ریاستی طاقت کی پشت پناہی حاصل ہو۔ یہ تنظیم نازی جرمنی اور فسطائی اٹلی کے نظریات سے متاثر اور ہم آہنگ ہے۔گولوالکر، جو RSS کے نظریہ سازوں میں سے تھے، نے مسلمانوں اور عیسائیوں کو بھارت کیلئے "دشمن اقوام” قرار دیا تھا۔ بی جے پی، اسی نظریے کی سیاسی شکل ہے،بلکہ اگر یہ کہا جائے ،کہ اس نے RSSکی کوکھ سے جنم لیا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ جب نریندر مودی 2014 میں بھارتی وزیر اعظم بنے، تو RSS کے نظریات کھل کر عملی شکل میں سامنے آنے لگے۔ مودی کے دورِ حکومت یعنی ان بارہ برسوں میں بھارتی اقلیتوں پر بالعموم اور مسلمانوں پر بالخصوص حملے، مسلم کش فسادات اور نفرت انگیز بیانات معمول بن چکے ہیں۔مختلف حیلے بہانوں سے مسلمانوں کی دکانوں اور مکانوں کو دن دیہاڑے بلڈوزر سے ملیا میٹ کیا جاتا ہے اور اس بربریت کو بلڈوزر انصاف کا نام دیا گیا ہے۔اس سلسلے میں بھارتی ریاست اتر پردیش جہاں بی جے پی کی حکومت اور یوگی ادتیہ ناتھ وزیر اعلی ہیں،سرعام مسلمانوں کو گالیاں اور ان کی دینی اقدار کا مذاق اڑانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا۔حد تو یہ ہے اترپردیش سے ہی تعلق رکھنے والی سماج وادی پارٹی کی ممبر پارلیمنٹ اقرا حسن کو نہ صرف گالیاں دی گئیں،بلکہ انہیں "کٹھ ملی ” جیسے القابات سے پکارا گیا۔مسلمان جن کیلئے اپنے پیغمبر ۖ سے اپنے والدین سے زیادہ محبت کرنا لازم ہے،I Love Muhmmad کہنا بھارت میں ایک جرم بنادیا گیاہے،جس پر نہ صرف مسلمانوں کے خلاف FIRدرج کی جاتی ۔ان کے گھر گرائے گئے۔سینکڑوں مسلمانوں کو گرفتار کرکے انہیں سلاخو ں کے پیچھے ڈال دیا گیا۔شر جیل امام اورعمر خالد کیساتھ ساتھ محمد سلیم خان، شفا الرحمن، اطہر خان، میران حیدر، عبدالخالد سیفی، شاداب احمد اور گلفشاں فاطمہ گزشتہ چھ برسوں سے محض مسلمان ہونے کی پاداش میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔آج تک ان کے کیسیوں کی سماعت شروع کی جاسکے ، نہ ہی ضمانتوں پر انہیں رہا کیا جاتا ہے اور نہ ہی بھارتی عدالتیں اس ظلم و ناانصافی کا از خود نوٹس لیتی ہیں۔ان طلبا کا مستقبل عملا ختم کیا جاچکا ہے۔پھر بھی بھارتی حکمران جمہوریت اور سیکولرازم کا دعوی کرتے ہیں۔اس دعوے سے گن آتی ہے۔بلکہ بھارت کا پورا نظام ہی بدبودار ہوچکا ہے،جس کی اب موت ہونا باقی ہے۔ بی جے پی کی نفرت انگیز سیاست کی تازہ مثالیں مسلمانوں کو "نمک حرام” کہنا ہے۔ گیری راج سنگھ ، جو مسلمانوں کی نفرت میں تمام حدیں پھلانگنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے ۔بہار میں انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں کو "نمک حرام” قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا:”مسلمان بی جے پی کے منصوبوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، لیکن ووٹ دوسری جماعتوں کو دیتے ہیں۔لہذا بی جے پی کو نمک حراموں کے ووٹ نہیں چاہئیں۔”یہ زہریلا بیان نہ صرف سیاسی بد دیانتی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ بھارت میں مسلمانوں کو "غدار” ثابت کرنے کے اس طویل بیانیے کا حصہ ہے جو 2014 سے منظم طور پر فروغ پارہا ہے۔جوبی جے پی کیلئے ایک مقبول نعرہ اور کوئی شجر ممنوع نہیں ہے۔انہی نعروں پر تو بی جے پی اپنی روٹیاں سیکتی ہیں ۔گیری راج سنگھ کے اس بیان سے قبل بی جے پی کی راجیہ سبھا رکن، مدھا کولکرنی نے پونے کے شنیوار وڈا علاقے میں مسلمان خواتین کو نماز پڑھنے سے روکنے کیلئے اس جگہ پر گائے کے پیشاب کا چھڑکائو کیا۔ یہ عمل نہ صرف مذہبی آزادی پر حملہ تھا، بلکہ ایک واضح پیغام بھی کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کیلئے اب کوئی احترام باقی نہیں ہے۔جیسے کہ مسلمانوں کو مساجد میں جگہ کم پڑنے کے باعث عیدین اور جمعہ کی نمازیں کھلی جگہوں پر ادا کرنے کی پاداش میں تشدد اور مقدمات کا سامنا ہے۔بی جے پی کی ایک اور رکن، پراگیہ سنگھ ٹھاکر، جو مالیگائوں بم دھماکوں میں بھی ملوث ہیں، نے ہندو والدین سے کہا کہ وہ اپنی بیٹیوں کو "لو جہاد” سے بچانے کیلئے ان پر تشدد کریں،یعنی اگر وہ کسی مسلمان لڑکے سے شادی کریں۔یہ سیدھا سیدھا ہندوئوں کو مسلمانوں کے خلاف تشدد پر ابھارنا ہے۔مگر مجال ہے کہ بھارتی عدالتیں ان بیانات کا نوٹس لیں۔مسلمانوں کے خلاف زہر میں بھجے ہندو انتہاپسندوں کے بیانات ہوں اور بھارتی عدالتیں حرکت میں آجائیں،موجودہ دور میں ممکن نہیں ہے۔ورنہ حاضر سروس بھارتی فوجی آفیسر کرنل پروہت شرما جو سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین دھماکے میں ملوث تھا،کو عدالت نے بری کیا اور بی جے پی نے نہ صرف اسے دوبارہ فوجی سروس کیلئے بحال بلکہ پرموشن سے بھی نوازا ہے۔ایسا صرف بھارت میں ہی ہوسکتا ہے۔بھارت میں جب بھی انتخابات قریب آتے ہیں، بی جے پی کا لائحہ عمل صاف نظر آنے لگتا ہے۔فسطائیت پر مبنی بیانات ،اقلیتوں کے خلاف زہر افشانی ،فرضی دشمن تراشنا ،پاکستان، مسلمان، لو جہاد سر چڑھ کر بول رہے ہیں۔11 نومبر 2025 کو بہار میں ہونے والے ریاستی انتخابات بی جے پی کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ اور انتہائی اہم ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق بی جے پی اپنی ناکام گورننس، بے روزگاری، مہنگائی اور بدانتظامی کو چھپانے کیلئے مذہبی نفرت کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔بی جے پی کا ہدف 80 فیصد ہندو اکثریت کو یہ باور کرانا ہے کہ وہی ان کی "واحد نمائندہ” جماعت ہے، اور اقلیتیں ان کی دشمن ہیں، جنہیں صرف دبایا جاسکتا ہے، ساتھ نہیں رکھا جا سکتا۔حالانکہ بھارتی آئین میں مذہبی آزادی، مساوات اور آزادی اظہار رائے کی ضمانت دی گئی ہے۔لیکن جب مودی وزارت عظمی کی کرسی پر براجمان ہوکر خود گجرات مسلم کش فسادات کے سائے سے باہر نہ آ سکے ہوں؛جب بی جے پی وزرا کھلے عام نفرت انگیز تقریریں کریں؛جب بھارتی میڈیا صرف پروپیگنڈا ٹول بن جائے اور جب عدالتی نظام خاموشی اختیار کرے تو آئینی تحفظات محض کاغذی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔
فلمی و سماجی شخصیات پر دباو ڈالا جانا بی جے پی کیلئے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔جس کی عرفان پٹھان، جاوید اختر، سلمان خان وغیرہ تاز ہ مثالیں ہیں،ان پر یہ دبا ئوڈالا گیا کہ وہ پاکستان مخالف بیانات دیں تاکہ اپنے "بھارتی ہونے” کا ثبوت پیش کر سکیں۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ مسلمان شہریوں کی حب الوطنی کو ان کے مذہب کی بنیاد پر مشکوک سمجھا جا رہا ہے۔بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کی آبادی تقریبا 22 کروڑ ہے، مگر ان پر ایک مستقل دبا ئوہے۔مذہبی شناخت چھپاناسوشل میڈیا پر "احتیاط سے” پوسٹ شیئر کرنا کسی واقعے کے بعد خود کو "الگ تھلگ” کرنا حب الوطنی ثابت کرنے کیلئے اضافی مشقتیہ صورتحال ایک جمہوری، سیکولر ریاست کیلئے باعثِ شرم ہے۔دنیا بھر میں بھارت کو سافٹ پاور، جمہوریت اور تنوع کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔لیکن آج عالمی میڈیا، بی بی سی، واشنگٹن پوسٹ، نیویارک ٹائمز سب بھارت میں مذہبی انتہا پسندی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔اقوامِ متحدہ کی رپورٹس بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں اضافے کو خطرناک قرار دے چکی ہیں۔تاہم مغربی حکومتیں خاص طور پر یورپ اور امریکہ تجارتی مفادات کی بنیاد پر خاموش ہیں، اور مودی حکومت کو کھلی چھوٹ دے رہی ہیں۔جس پر سوال اٹھایا جاتا ہے کہ بھارت کہاں جا رہا ہے؟بھارت آج جس راستے پر گامزن ہے، وہ صرف مسلمانوں یا اقلیتوں کیلئے نہیں، بلکہ پورے بھارتی سماج کیلئے تباہ کن ہے۔ رواں برس 22اپریل کو پہلگام میں فالس فلیگ آپریشن میں اپنے ہی 26لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد مودی نے دوسرے ہی دن 23اپریل کو بہار میں جاکر بھارتیوں کی لاشوں پر سیاست شروع کی،جس پر اگر چہ اس کی سخت مذمت کی گئی،لیکن آپریشن سندور میں پاکستان کے ہاتھوں شکست کے نتیجے میں مودی کو جو زخم لگے ہیں،وہ آج تک انہی زخموں کو چاٹ رہا ہے اور اپنی اس بدترین شکست کو نفرت کے بیانئے سے سیاسی جیت میں بدلنے کی کوشش کر ر ہے ہیں ۔ جب نفرت ایک سیاسی طاقت بن جائے، جب اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری بنا دیا جائے، جب مذہب سیاست کا ایندھن بن جائے تو تاریخ یہی بتاتی ہے کہ ایسے معاشرے کبھی پائیدار نہیں رہتے۔بی جے پی کی سیاست نے بھارت کو ایک جمہوری ریاست سے ایک ہندو قوم پرستی کی طرف دھکیل دیا ہے۔یہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں، یہ بھارت کی روح کا سوال ہے۔کیا بھارت اپنے سیکولر تشخص کو بچا سکے گا؟کیا اکثریتی طبقہ نفرت کی سیاست کو پہچان کر اس سے انکار کرے گا؟یا یہ زہر اتنا گہرا ہو چکا ہے کہ واپسی کا راستہ ہی ختم ہو چکا ہے؟یہ سوالات آج بھارت کے ہر باشعور شہری کے سامنے کھڑے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button