میجر گوروو آریہ بدنام زمانہ بھارتی خفیہ ادارے را (RAW) کا ایک اہم ٹول ہے، جس کا مقصد پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر پروپیگنڈا کرنا اور پاکستانی عوام و عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنا ہے۔ اس کا بیانیہ ہمیشہ پاکستان کی افغان پالیسی کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے، تاریخ کو مسخ اور سیاسی طور پر پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔گوروو آریہ کی یہ پروپیگنڈا مہم محض ایک فرد کا تجزیہ یا نظریہ نہیں بلکہ ایک بڑی اطلاعاتی جنگ (Information Warfare) کا حصہ ہے جو بھارتی حکومت اور اس کے خفیہ ادارے” را ” کی سرپرستی میں چلائی جا رہی ہے۔اسٹریٹیجک ڈیپتھ” بھارتی میڈیا کا تخلیق کردہ بیانیہ ہے۔ میجر گوروو آریہ اپنے بیانات میں اکثر "اسٹریٹیجک ڈیپتھ” کا ذکر کرتے ہیں اور اسے پاکستان کی سرکاری پالیسی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ تاہم یہ بھارتی میڈیا کا تخلیق کردہ بیانیہ ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔پاکستان کے افغان گروپوں سے تعلقات اور افغانستان کی داخلی سیاست کا تعلق اس وقت کے عالمی حالات سے ہم آہنگ ہے، جیسے کہ افغانستان میں 1979 کی سوویت یونین کی جارحیت اور اس کے بعد امریکی و سعودی عرب کی حمایت کے نتیجے میں پاکستان کی افغانستان میں اثرورسوخ بڑھ گیا۔ یہ کوئی پاکستانی پالیسی کا حصہ نہیں تھا، بلکہ یہ روسی جارحیت کو روکنے کیلئے ناگزیر تھا’ جس کی نظریں گرم پانیوں یعنی کراچی پر تھیں۔دوسرا عالمی مفادات اور سیکیورٹی کی ضروریات کے تحت یہ ایک بھرپور موقع تھا تھا،جس سے پاکستان نے بھرپور طریقے سے نبھایا۔پاکستان نے نہ صرف سوویت یونین کے خلاف جدوجہد میں اپنا پورا حصہ ڈالا،4000000سے زائد افغان پناہ گزینوں کو اپنے ہاں پناہ دی،جو کسی بھی ملک کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں مہاجرین کی میزبانی کی محبت سے بھرپور مثال تھی، بلکہ بعد ازاں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی اپنے فوجی، انسانی اور معاشی وسائل کانذرانہ پیش کیا۔ اس کے باوجود بھارت ہمیشہ پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا کر اپنی بدبودار سیاست کا جواز پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔گوروو آریہ کا "اسٹریٹیجک ڈیپتھ” کے بارے میں دعوی دراصل بھارت کی جھوٹی سیاست کو جواز فراہم کرنے کی ناکام کوشش ہے۔ ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ پاکستان کے قیام سے تقریبا پچاس برس پرانا ہے۔ڈیورنڈ لائن پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک طویل لکیراور سرحد ہے،جو بہت پہلے کھینچی جاچکی ہے۔ بھارت کی جانب سے اس مسئلے کو پاکستان کے دفاعی ادارے "آئی ایس آئی کی تخلیق” قرار دینا ایک سیاسی پروپیگنڈا ہے۔یہ علمی طور پر غلط اور تاریخی بددیانتی ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ ڈیورنڈ لائن پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک معاہدہ تھا، جس میں دونوں ممالک کی حکومتیں شامل تھیں۔اسی طرح بھارتی میڈیا اور گوروو آریہ نے پاکستان پر دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کی حمایت کا الزام لگایا، لیکن اقوامِ متحدہ کی رپورٹس، گرفتار دہشت گردوں کے اعترافات اور انٹیلی جنس مواصلات اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ TTP کو بھارتیRAW نیٹ ورک سے مدد مل رہی ہے، خاص طور پر افغانستان کے سرحدی علاقوں میں سرگرم TTP کو بدنام زمانہ بھارتیRAW سے سرعام مدد حاصل ہے۔ یہ حقیقت بھی اب طشت از بام ہورہی ہے کہ بھارت نے افغانستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی اور پاکستان کے خلاف فتنہ الخوارج کا ایک نیا محاذ کھولا۔حالانکہ افغانستان میں بھارت کی موجودگی ہمیشہ امریکہ اور نیٹو کی فوجی حمایت کی مرہون منت تھی۔ جب امریکہ نے افغانستان سے اپنی ا فواج نکالنے کا فیصلہ کیا، تو بھارت کا اثر ونفوذ بھی ختم ہوگیا۔2021میں کابل کے تخت پر طالبان کا قبضہ بھارت کیلئے کوئی اچھی دلچسپ صورتحال نہیں تھی ،جس کے نتیجے میں بھارت کو اپنا بوریا بستر گول کرکے بھاگنا پڑا ۔ان حالات میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اگر خوش گوار نہیں تو خراب بھی نہیں ہیں، جبکہ بھارت کا اثر زوال پذیر ہے۔بھارت کا کابل میں محدود سفارتی دفتر کھولنا کوئی اثر و رسوخ کی بحالی نہیں، بلکہ صرف اپنی موجودگی کو برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔اس کے برعکس پاکستان اور افغانستان کے تعلقات جغرافیہ، تجارت، ثقافت، مذہبی اقدار اور انسانی روابط کی بنیاد پر قائم ہیں۔ افغانستان میں پاکستان کی موجودگی کوئی اتفاق نہیں بلکہ زمینی حقیقت ہے۔ پاکستان نے نہ صرف افغان مہاجرین کی میزبانی کی بلکہ ہمیشہ افغانستان کی داخلی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ میجر گوروو آریہ کا یہ دعوی کہ پاکستان افغان مسائل میں مداخلت کرتا ہے، حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ بھارت نے عالمی ذرائع ابلاغ میں پاکستان کو تنہا ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک اہم کھلاڑی کے طور پر موجود اور اپنے آپ کو منوا رہا ہے۔ پاکستان چین، ایران، روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کیساتھ مضبوط اقتصادی اور سفارتی تعلقات رکھتا ہے۔پاکستان نے Central Asia Electricity Transmission & Trade Project. CASA-1000، TAPI ، CPEC اور شنگھائی تعاون تنظیمSCO جیسے اہم منصوبوں میں بھرپور حصہ لیا ہے، جو بھارت کی تنہائی کا باعث بنے ہیں۔بھارت ان تمام منصوبوں سے باہر اور عالمی سطح پر اس کا اثر ورسواخ کمزورہو رہا ہے۔ خطے میں پاکستان کی پوزیشن مستحکم اور بھارت کی تنہائی بڑھ رہی ہے۔بھارت داخلی بحران کا شکار جبکہ پاکستان مضبوط معاشی اصلاحات اور سیکیورٹی اسٹرکچر کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔اس کے برعکس بھارت کی خارجہ پالیسی کئی محاذوں پر ناکام ہو چکی ہے، اور اسے عالمی سطح پر ایک کمرشل طاقت کی حیثیت میں وہ پذیرائی نہیں ملی،جس کا بھارت دعوی کرتا ہے۔ بھارت اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کیلئے عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن عالمی تعلقات میں پاکستان کا کردار آج بھی اہم ہے۔خاص کر رواں برس 06سے10مئی کے دوران پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی جو درگت بنی،اس نے بھارت ایک عالمی کھلاڑی کا بھرم زمین بوس کرڈالا ہے۔پاکستان، جہاں اپنے داخلی مسائل کو حل کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے،وہیں اقتصادی اصلاحات اور سیکیورٹی کی صورتحال میں بہتری لانے کیلئے دن رات کام کر رہا ہے، بھارت میں صورتحال یکسر مختلف ہے۔بھارت اس وقت منی پور، ناگالینڈ اور آسام میں مسلح بغاوتوں کا شکار ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں جدوجہد آزادی کی تحریک سے اہل کشمیر کو دستبردارکرانے کیلئے ریاستی جبرکی پالیسی کے خلاف مزاحمت شدت اختیار کر چکی ہے اور خود بھارتی اقلیتیوں کو شدید مسائل اور مصائب کا سامنا ہے۔ بھارت میں ہندوتوا انتہا پسندی کے خلاف عالمی سطح پر شدید تنقید ہو رہی ہے اور اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں مختلف عالمی فورمز پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔یہ بھارتی حکمران طبقے کی نظریاتی اور ساختی بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔ بھارت کی داخلی پوزیشن کمزور ہے اور اس تناظر میں گوروو آریہ کے بیانات میں پاکستان کی داخلی استحکام کو نشانہ بنانے کے حربے بھارت کے اپنے آن گنت مسائل کو چھپانے کی مذموم کوشش ہے ۔میجر گوروو آریہ کا بیانیہ یک طرفہ، غیر تحقیقی اور بھارت کے خفیہ ادارے RAW کے پروپیگنڈا مشینری کا حصہ ہے۔ اس کے تجزیے میں حقیقت کی کوئی معمول سی جھلک بھی دکھائی نہیں دیتی ہے اور اس کا مقصد صرف پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا اور بدبو داربھارتی سیاست کو جواز فراہم کرنا ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان کی افغانستان پالیسی زمینی حقائق، عالمی تعلقات اور خطے کی سلامتی سے مربوط اور ہم آہنگ ہے۔ پاکستان نے نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانیاں دی ہیں بلکہ افغانستان میں امن کی بحالی کیلئے مثبت کردار بھی ادا کیا ہے،آج بھی کررہا ہے۔دوحہ قطر اور استنبول ترکیہ مذاکرات اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔جس کا عالمی سطح پر کھل کر اعتراف کیا جاتا ہے۔لہذا گورووآریہ کے بیانیہ کو اگر کوئی ذی حس حقیقت کیساتھ جوڑنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ صرف ایک پروپیگنڈے کے سوا کچھ نہیں ہے جس کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر غیر مستحکم ظاہر کرنا ہے۔ پاکستان کی افغانستان پالیسی اور دہشت گردی کے خلاف قربانیاں عالمی سطح پر سراہی جاتی ہیں اور بھارت کا جھوٹا بیانیہ اس حقیقت کو چھپانے کی ناکام کوشش ہے۔میجر گوروو آریہ ایک جھوٹا شخص ہے،جس کا اعتراف خود بھارتی تجزیہ نگار کرتے ہیں،کہ نام نہاد میجر کرگل میں جھوٹا ڈرامہ کرتے ہوئے پکڑا گیا کہ اسے واش رام میں گر کر چوٹ لگی،جس پر اس کے کمانڈنگ آفیسر CO نے اس کا میڈیکل کرایا،تو چوٹ کا کہیں کوئی نام و نشان نہیں تھا،جس پر اس کا کورٹ مارشل کرکے فوج سے ہی چھٹی کرائی گئی۔اب یہ بے شرم ٹی وی پر بیٹھ کر اس پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرتا ہے،جس نے بھارت کے خلاف آپریشن معرکہ حق بنیان المرصوص کے نتیجے میں نہ صرف مودی کی ناک سے لیکریں کھینچوائیں بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے ایک سبق بھی چھوڑا ہے جس سے آج نہیں تو کل نہ صرف فوجی کورسوں بلکہ نصاب میں بھی پڑھایا جائے گا۔







