
عظیم فلسفی، شاعر اور مفکرِ برِصغیر ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کا 148واں یومِ پیدائش آج عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ حکیمُ الاُمّت اور شاعرِ مشرق نے ملتِ اسلامیہ خصوصاً نوجوانوں کے دلوں میں خودی، بیداری اور حریتِ فکر کی شمع روشن کی۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی تسلط کے خلاف جاری تحریکِ آزادی، دراصل تحریکِ قیامِ پاکستان ہی کا تسلسل ہے۔ کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کے پسِ منظر میں جس روحانی رہنمائی کا فیض شامل ہے، وہ مملکت خداداد پاکستان کے روحانی قائد شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کی فکر و دعا کا ہی نتیجہ ہے۔
شیخ محمد عبداللہ نے اپنی آخری عوامی تقریر میں شاعرِ مشرق کو ان الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا:
“اس صدی کے آغاز میں علامہ اقبال کشمیر آئے، جب ہر طرف جہالت اور غربت کا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ انہوں نے خدا سے دعا کی کہ وہ لوگوں کے دلوں میں انقلاب کی چنگاری بھڑکا دے۔”
یہی دعا اقبالؒ نے 1921 میں اپنے پہلے دورۂ وادی کشمیر کے دوران نشاط باغ، سرینگر میں لکھی نظم ساقی نامہ کے آخری اشعار میں کی:
“توڑ اس دستِ جفا کیش کو یا رب،
جس نے روحِ آزادیِ کشمیر کو پامال کیا۔”
اقبالؒ کی شاعری محض تخیل نہیں بلکہ ایک سیاسی و فکری تحریک تھی۔ انہوں نے برطانوی استعمار کے دور میں برصغیر کے مسلمانوں کی زبوں حالی کو اپنی شاعری کے ذریعے اجاگر کیا اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کو خط لکھ کر ملت کی معاشی و سیاسی تقدیر بدلنے کی ترغیب دی۔
اقبالؒ کا دل کشمیری مسلمانوں کی غلامی اور ذلت سے بے حد رنجیدہ تھا۔ وہ نہ صرف اپنی نظموں کے ذریعے کشمیر کی مظلوم قوم کے حق میں آواز بلند کرتے رہے بلکہ کشمیر کمیٹی لاہور کے صدر کی حیثیت سے تحریکِ آزادیِ کشمیر میں عملی کردار بھی ادا کیا۔
اسی دور میں جب فلسطین برطانوی مینڈیٹ کے تحت غلامی کی زنجیروں میں جکڑا جا رہا تھا اور صیہونی تحریک زور پکڑ رہی تھی، اقبالؒ جیسے مفکر کے لیے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے لاتعلق رہنا ممکن نہ تھا۔ ان کی فکر ہمیشہ مظلوم اقوام کی حمایت اور ظالم قوتوں کے خلاف صدائے حق رہی۔
مہاراجہ پرتاپ سنگھ کے دورِ استبداد میں کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم اپنی انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔ گائے کے ذبیحہ پر سزائے موت نافذ تھی، حتیٰ کہ ایک بزرگ مسلمان اور اس کے خاندان کے سترہ افراد کو محض شبہ میں زندہ جلا دیا گیا۔ 1924 میں پلوامہ کے ایک گاؤں میں ایک بچے کے درخت کی شاخ توڑنے پر اس کے والد کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا۔
علامہ اقبالؒ کی کشمیری عوام کے لیے فکر و محبت کا سلسلہ ان کے دورِ طالب علمی سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ وہ انجمن کشمیر مسلمین لاہور کے جنرل سیکریٹری رہے اور کشمیر میگزین میں اپنے نام اور گمنام تحریروں کے ذریعے کشمیریوں کی حالتِ زار اجاگر کرتے رہے۔
انہوں نے اپنی ایک نظم میں کشمیریوں کو پیغام دیا کہ: “لفظ کشمیر کے حروف — ک، ش، م، ر — کی طرح متحد ہو جاؤ۔”
ایک اور نظم میں وہ دردِ دل سے کہتے ہیں: “ظلم و جہالت کے چنگل نے ہمیں پست کر دیا ہے۔”
اقبالؒ کا پیغام آج بھی اہلِ کشمیر کے لیے روشنی کا مینار ہے — خودی، بیداری، اور ظلم کے خلاف جدوجہد کا استعارہ۔







