مضامین

برہان وانی: مزاحمت کا استعارہ

تحریر: ارشد میر

تاریخ انسانی جدوجہد، قربانی اور آزادی کے خواب سے عبارت ہے۔ دنیا کے ہر کونے میں جب بھی کسی قوم پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے، وہاں سے ایک صدائے احتجاج ضرور بلند ہوئی۔ برصغیر کے دل، مقبوضہ جموں و کشمیر میں یہی صدا برہان مظفر وانی کے ذریعے سنائی دی، جس نے نہ صرف بھارتی قبضے کے خلاف نوجوانوں کو بیدار کیا، بلکہ اپنی شہادت کے بعد مزاحمت کی علامت بن کر ابھرا۔ برہان وانی اب محض ایک فرد نہیں رہا بلکہ ایک نظریہ، ایک استعارہ اور ایک تحریک بن چکا ہے۔
برہان 19 ستمبر 1994 کو ترال، ضلع پلوامہ کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوا۔ اس کا والد مظفر وانی اسکول پرنسپل تھا اور خاندان کا شمار تعلیم یافتہ کشمیری خاندانوں میں ہوتا تھا۔ برہان ایک عام کشمیری طالبعلم تھا، جو عام نوجوانوں کی طرح کھیل، تعلیم اور زندگی کے خوابوں میں مصروف تھا۔ تاہم، 2010 میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں اپنے بھائی کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی اور قتل نے برہان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ یہ واقعہ اس کے اندر بیداری کی وہ چنگاری بن گیا جس نے اسے بندوق اٹھانے پر مجبور کیا۔
برہان وانی نے 2010 میں عسکری مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔لیکن وہ صرف ایک گوریلا فائٹر نہیں تھا۔ اس نے سوشل میڈیا کو مزاحمت کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ اپنے ویڈیوز اور تصاویر کے ذریعے وہ لاکھوں نوجوانوں کے دلوں میں گھر کر گیا۔ کشمیری نوجوانوں کے لیے وہ ایک ہیرو، ایک رہنما اور ایک امید کی کرن بن گیا۔ وہ بندوق اٹھانے والے نوجوانوں کی نئی نسل کا چہرہ بن گیا، جس نے بغاوت کو عسکری سے زیادہ نظریاتی انداز دیا۔
بھارتی ریاست ہمیشہ سے کشمیری مزاحمت کو “دہشت گردی” کے تناظر میں پیش کرتی رہی ہے، لیکن برہان وانی کی شخصیت نے اس بیانیے کو بری طرح چیلنج کیا۔ وہ ایک پڑھے لکھے، بااخلاق، صاف گو اور وژنری نوجوان کے طور پر ابھرا، جس نے واضح طور پر کہا: "ہم کسی سے نفرت نہیں کرتے، ہم صرف آزادی چاہتے ہیں۔”
برہان کی شہادت کے بعد وادی میں جو ہنگامہ خیز تحریک اٹھی، اس نے بھارتی ریاستی بیانیے کو شدید نقصان پہنچایا۔ ہزاروں نوجوان اس کے جنازے میں شریک ہوئے، اور کئی مقامات پر بھارتی فوج کے خلاف نعرے بازی ہوئی۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ برہان محض ایک شخص نہیں، بلکہ ایک سوچ ہے جسے گولیوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
8 جولائی 2016 کو برہان وانی کو کوکرناگ کے علاقے میں بھارتی فورسز نے ایک جھڑپ میں شہید کر دیا۔ اس خبر نے پوری وادی میں کہرام مچا دیا۔ لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ وادی میں 6 ماہ سے زیادہ عرصہ تک مکمل ہڑتال رہی۔ بھارتی فورسز نے پیلٹ گنز سے سینکڑوں نوجوانوں کو بینائی سے محروم کیا، سینکڑوں شہید اور ہزاروں گرفتار کیے گئے۔ لیکن اس سب کے باوجود، بھارتی ریاست کشمیری عوام کی مزاحمتی روح کو نہ توڑ سکی۔
برہان کی شہادت نے کشمیری مزاحمت کو ایک نیا رخ دیا۔ پہلی بار، احتجاج خالصتاً عوامی سطح پر ابھرا، جس میں مرد، عورتیں، بزرگ، نوجوان، طلبہ، سب شامل تھے۔ یہ ایک انقلابی لمحہ تھا جو کشمیر کی حالیہ تاریخ میں نکتۂ آغاز بن گیا۔
برہان وانی کی شہادت نے بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل کی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے بھارتی مظالم پر آواز اٹھائی۔ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے اسے "کشمیر کی آزادی کی علامت” قرار دیا اور اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس کی شہادت کا ذکر کیا۔ عالمی میڈیا نے بھی برہان کی شخصیت اور اس کی جدوجہد کو کور کیا، اور پہلی بار کشمیر کا مقدمہ عالمی سطح پر سنجیدگی سے سنا گیا۔
آج برہان وانی ایک استعارہ بن چکا ہے۔ وہ ظلم کے خلاف جدوجہد، حق خودارادیت، اور نوجوانوں کی بیداری کا نمائندہ ہے۔ اس نے بندوق اور بغاوت کو ایک اخلاقی دائرہ عطا کیا۔ وہ یہ سمجھاتا ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھ جائے، تو خاموشی جرم بن جاتی ہے۔
برہان کی شخصیت میں وہ کشش تھی جس نے نوجوانوں کو سوچنے پر مجبور کیا کہ آزادی محض ایک خواب نہیں بلکہ ایک حق ہے، جس کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے۔ اس کی شخصیت میں وہ وقار، ایمان اور یقین تھا جو کسی قوم کو بیدار کر سکتا ہے۔
بھارتی میڈیا نے حسبِ روایت برہان کو “دہشت گرد” ثابت کرنے کی کوشش کی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ برہان کے خلاف نہ کوئی عدالتی فیصلہ تھا، نہ کوئی دہشت گردی کی کارروائی کا ثبوت۔ وہ محض آزادی کی بات کرتا تھا، اور یہی بات ایک قابض ریاست کو گوارا نہ تھی۔
بھارتی ریاست نے نہ صرف برہان کی شہادت کو چھپانے کی کوشش کی، بلکہ اس کی قبر اور خاندان کو بھی نشانہ بنایا۔ لیکن یہ تمام اقدامات مزاحمت کو کمزور کرنے میں ناکام رہے، بلکہ اس تحریک کو مزید تقویت ملی۔
برہان وانی کی شہادت کو 8 سال گزر چکے ہیں، لیکن اس کا اثر آج بھی کشمیر کی فضا میں محسوس ہوتا ہے۔ نوجوان آج بھی اس کے نقشِ قدم پر چلنے کو تیار ہیں۔ وہ آج بھی کشمیری پوسٹروں، بینروں، دیواروں اور دلوں میں زندہ ہے۔ اس کے نعرے، اس کے ویڈیوز، اس کا عزم — سب کچھ آج بھی مزاحمت کے استعارے کے طور پر موجود ہے۔
برہان وانی تاریخ کے ان چہروں میں سے ہے جنہیں گولی مار کر تو مارا جا سکتا ہے، مگر ان کے نظریے کو دفن نہیں کیا جا سکتا۔ اس نے کشمیری نوجوانوں کو جرأت، حوصلہ اور بیداری عطا کی۔ وہ دنیا کو یہ پیغام دے گیا کہ اگر تم ہماری سرزمین پر قبضہ کرو گے، اگر تم ہماری شناخت مٹانے کی کوشش کرو گے، تو ہم مزاحمت کریں گے، چاہے اس کے لیے ہمیں اپنی جان دینی پڑے۔
برہان وانی کی مزاحمت نے ایک نئے عہد کا آغاز کیا ہے، جہاں کشمیر کا ہر بچہ، ہر نوجوان، آزادی کا متوالا ہے۔ برہان کا نام آج بھی ظلم کے خلاف ایک صدا، اور آزادی کے لیے ایک امید ہے۔ وہ استعارہ ہے اس خواب کا جو ہر کشمیری کی آنکھ میں پلتا ہے — خواب آزادی کا، وقار کا، ظلم و جبر اور جابرانہ تسلط سے نجات کا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button