سرینگر :نوگام تھانے میںپر اسرار دھماکہ، 9 پولیس اہلکار ہلاک، 30 زخمی
سرینگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے گرمائی دارلحکومت سری نگر کے مضافات میں واقع نوگام تھانے میں ہونے والے ایک پراسرار دھماکے میں کم از کم 9 پولیس اہلکار ہلاک جبکہ 30 کے لگ بھگ زخمی ہوگئے ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دھماکہ آج رات اس وقت ہوا جب پولیس کی ایک ٹیم تھانے میں موجود دھماکہ خیز مواد کی جانچ کر رہی تھی۔ مرنے والوں میں زیادہ تر فرانزک اہلکار شامل ہیں جو مواد کی جانچ کر رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے کچھ کی حالت تشویشناک ہے۔دھماکے کے بعد تھانے کی عمارت اور اس کے احاطے میں کھڑی کئی گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ واقعے کے حوالے سے سامنے والی ویڈیو فوٹیج میں بھی آگ کے شعلے اور گہرا دھواں فضا میں دیکھا جاسکتا ہے۔قبل ازیں بھارتی حکام نے بھارتی ریاست ہریانہ کے علاقے فرید آباد میں ایک کرائے کے مکان سے 360 کلو گرام دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی کا دعوی کیا تھا۔ مواد کا کچھ حصہ جانچ کیلئے نوگام تھانے میں لایا گیا تھا۔ حکام نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ فریدآباد کے جس مکان سے دھماکہ مواد برآمد کیا گیا اس میں ایک کشمیری ڈاکٹر مزمل گنائی رہائشی پذیر تھا ۔ پولیس نے مزمل گنائی کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں نے سرینگر میں ہونے والے اس دھماکے کے حوالے سے کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ بھارتی پولیس نے قبل ازیں کئی کشمیری ڈاکٹروں پر دہشت گردی نیٹ ورک کے ساتھ منسلک ہونے کا الزام لگا کر انہیں حراست میں لیا جبکہ پولیس نئی دلی دھماکے میں بھی ایک کشمیری ڈاکٹر عمر نبی کو ملوث کیا ۔ بھارتی ایجنسیوں نے دعوی کیا کہ دلی دھماکہ عمر نبی نے کیا اور وہ خود بھی دھماکے میں جانبحق ہوا۔ بھارتی فوجیوں نے ضلع پلوامہ کے گاں کوئیل میں عمر نبی کے آبائی گھر کو بھی گزشتہ روز دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کشمیری ڈاکٹروں کی گرفتاری ، ان پر سنگین الزامات اور اب نوگام تھانے میں پراسرار دھماکہ ایک منصوبہ بند سازش کی مختلف کڑیاں دکھائی دے رہی ہیں۔تجزیہ کا ر وں کے مطابق لگ یوں رہا ہے کہ بھارتی حکام نے بیگناہ کشمیری ڈاکٹروںپر لگائے جانے والے الزامات کے اصل حقائق اس دھماکے کے ملبے تلے دفن کردیے۔







