مقبوضہ کشمیر اوربھارت میں مسلمانوں کو نسل کشی کے خطرات کا سامنا ہے
سرینگر: نسل کشی کے متاثرین کی یاد اور روک تھام کے عالمی دن کے موقع پر ماہرین نے مودی کے دورحکومت میں بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر اوربھارت میں مسلمانوں کو نسل کشی کے بڑھتے ہوئے شدیدخطرے کے بارے میں خبردار کیا ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت میں ہندوتوالیڈر کھلے عام مسلمانوں کے قتل عام کی دھمکیاں دے رہے ہیں، جبکہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف منظم ظلم و تشدد اور نفرت انگیز جرائم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ بھارت مسلمانوں کی نسل کشی کی تیاری کے آخری مراحل میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور مقبوضہ جموں وکشمیرمیں مسلمانوں پر ظلم و ستم اور غیر انسانی سلوک ایک ممکنہ قتل عام کا پیش خیمہ ہے۔ماہرین نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری مداخلت کریں اور بھارت کو جواب دہ بنائیں ۔ جینوسائیڈ واچ جیسی تنظیموں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت اور مقبوضہ جموں وکشمیرمیں مسلمانوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں، اقلیتوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے اور نسل کشی کی تیاریوں کو روکنے کے لئے اقدامات کریں۔
ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں مقبوضہ علاقے میں بھارتی فورسز کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرے۔حریت کانفرنس نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ بھارت اورمقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن اقدامات کریں۔







