مقبوضہ جموں و کشمیر

مودی حکومت کا ڈیجیٹل کریک ڈائون جاری،وی پی این استعمال کرنے پر دوافراد گرفتار، مقدمہ درج

جموں:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت نے شہری آزادیوں پر پابندیوں کو مزید سخت کرتے ہوئے ضلع ڈوڈہ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم تک رسائی کے لیے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (VPN)ایپلی کیشنز کا استعمال کرنے پر دو شہریوں کو گرفتارکرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پولیس نے دونوں افراد کے خلاف ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے جاری کردہ امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کرنے کے الزام پر الگ الگ مقدمات درج کیے ۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ضلع میں وی پی این ایپلی کیشنز کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔ تھانہ ڈوڈہ کی پولیس ٹیم نے بگلہ مین بازار میں معمول کی گشت کے دوران ایک شخص کو گرفتارکر لیا جس کی شناخت خالد ابرار بٹ ساکن بگلہ بھارتھ کے طور پر ہوئی۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنے موبائل فون پر وی پی این ایپلیکیشن استعمال کرتے ہوئے پایا گیا اور اس کی وضاحت فراہم کرنے میں ناکام رہا جس کے بعد اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔پولیس نے ایک اور شہری محمد عرفان کو جو تحصیل چلی کے علاقے ٹنڈلا کا رہائشی ہے، گندوہ کے علاقے میں شالی پل کے قریب وی پی این ایپلیکیشن استعمال کر نے پر گرفتارکیا۔ عرفان کے خلاف پولیس سٹیشن گندوہ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ من مانی گرفتاریاں، چھاپے اور طویل نظر بندیاں کشمیری عوام کی حق خودارادیت کی جائز جدوجہد کو دبانے میں ناکامی پر مودی حکومت کی شدید بوکھلاہٹ کی عکاسی کرتی ہیں۔ کالے قوانین کے استعمال، من گھڑت مقدمات اور منظم انداز میں ہراساں کرنے سمیت بھارتی جبر سے نہ تو کشمیریوں کے عزم کو کمزور اور نہ ہی ان کے آزادی کے مطالبے کو دبایاجاسکاہے بلکہ جابرانہ اقدامات نے بھارت کو مزید بے نقاب کردیا اوربین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی فوری مداخلت کو اجاگرکیا ہے تاکہ مقبوضہ علاقے میں بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھارت کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ وی پی این کے استعمال کو جرم بنانے سے ظاہر ہوتاہے کہ مودی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں ڈیجیٹل آزادیوں کو کس حد تک روک رہی ہے جہاں معلومات اور سوشل میڈیا تک رسائی پر طویل عرصے سے سخت پابندیاں عائد ہیں۔انہوں نے کہاکہ وی پی اینزپر پابندی اجتماعی سزا کے مترادف ہے اور اس کا مقصد اختلاف رائے کو دبانا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button