ریاسی میڈیکل کالج کی بندش ایک خطرناک نظیر قائم کرے گی جس کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں:محبوبہ مفتی

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے ضلع ریاسی میں ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات خطرناک نظیر قائم کریں گے جس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق محبوبہ مفتی نے سرینگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میڈیکل کالج کی بندش کوایک سوچا سمجھا اقدام قرار دیتے ہوئے ا سے متعلق واقعات کی ترتیب پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے فیصلے لوگوں میں خوف اور بے یقینی پیدا کرتے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اس اقدام سے بھارت بھر میں انتہا پسند عناصر کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ کل کچھ دائیں بازو کی ہندو تنظیمیں بھارت کے کسی بھی علاقے میں احتجاج کر سکتی ہے اور کشمیر کے مسلمان طلباء کو نکالنے کا مطالبہ کر سکتی ہے۔یہ ایک مثال قئم ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ جموں و کشمیر کو ایک تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور یہاں جو بھی کارروائی کی جاتی ہے، بعد میں بھارت کے دیگر حصوں میں دہرائی جاتی ہے۔بھارت میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی کارروائیوں کا موازنہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں پہلے سے جاری چھاپہ مارکارروائیوں سے کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہاکہ بھارت بھر میں اپنی پا لیسیوں کے نفاذ سے پہلے مقبوضہ جموں وکشمیر کو ایک تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
محبوبہ مفتی نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ ایسے فیصلوں سے باز رہے جو سماجی تقسیم کو گہرا کر سکتے ہیں اور بھارت کی تکثیری بنیادوں کو کمزور کر سکتے ہیں۔







