مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ کشمیر میں مساجد اور آئمہ کی سخت نگرانی، مودی حکومت نے ذاتی و مالی معلومات طلب کر لیں

سری نگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی انتظامیہ نے وادی کشمیر بھر میں مساجد ، آئمہ اور مساجد سے وابستہ دیگر افراد کے بارے میں بڑے پیمانے پر معلومات جمع کرنے کی مہم شروع کر دی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارت نے متعدد علاقوں کی مساجد میں چار صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی فارم بھیجنا شروع کر دیا ہے جس میں مساجد اور ان سے منسلک افراد بشمول ائمہ، خطیب، مئوذن ، مسجد کمیٹی کے اراکین اور بیت المال کے بارے میں مکمل معلومات طلب کی گئی ہیں۔
فارم میں ہر مسجد کی بابت مسلکی وابستگی، بیٹھنے کی گنجائش، منزلوں کی تعداد، تعمیراتی لاگت، فنڈنگ کے ذرائع، ماہانہ بجٹ، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات اور انتظامی ڈھانچے سے متعلق معلومات مانگی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ اراضی کے ریکارڈ کے بارے میں بھی سوالات شامل ہیں ۔پھرمذہبی شخصیات اور مسجد کمیٹی اراکین سے ذاتی نوعیت کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان سے تاریخِ پیدائش، تعلیمی کوائف، رابطہ نمبر، پاسپورٹ تفصیلات، بیرونِ ملک سفر کی معلومات، ووٹر آئی ڈی اور آدھار نمبر، ڈرائیونگ لائسنس، راشن کارڈ، بینک اکاؤنٹس اور جائیداد کی ملکیت سے متعلق معلومات بھی مانگی جا رہی ہیں۔
اس فارم میں آئمہ اور دیگر افراد سے موبائل فون کی تفصیلات کے ساتھ IMEI نمبر، اے ٹی ایم اور کریڈٹ کارڈ کی معلومات، پین نمبر، ای میل آئی ڈی، واٹس ایپ نمبر، سوشل میڈیا ہینڈلز یہاں تک کہ اپنے فون پر انسٹال شدہ ایپلیکیشنز کی فہرست بھی مانگی گئی ہے۔ ماہانہ آمدنی اور اخراجات سے متعلق معلومات، اثاثوں کی تخمینہ قیمت، اور خاندان کے قریبی افراد کی ذاتی تفصیلات بھی جمع کی جا رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مقبوضہ علاقے میں نگرانی کے نظام کو مزید سخت کرنی کی کوششوں کا حصہ ہے۔ مساجد کی انتظامی باڈیز نے اس مہم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مذہبی معاملات میں براہِ راست مداخلت ہے۔ ایک مسجد کمیٹی کے رکن نے کہا کہ ”ہم پہلی بار اس نوعیت کا فارم دیکھ رہے ہیں، مذہبی اداروں سے وابستہ افراد کو حد سے زیادہ ذاتی معلومات دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔”
کشمیری سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ تازہ ترین اقدام یکے بعد دیگرے وسیع پیمانے پر جاری کریک ڈان کا حصہ ہے جس کا مقصد اختلاف رائے کو خاموش کرنا اور اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے والوںپر نفسیاتی دباؤ ڈالنا ہے۔
KMS-1

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button