مقبوضہ جموں و کشمیر

آسیہ اندرابی اور انکی ساتھیوں کو محض سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ماہرین قانون

سری نگر :بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھیوں ناہیدہ نسرین اور صوفی فہمیدہ کی مسلسل غیر قانونی نظر بندی اور جھوٹے مقدمات میں سزا علاقے میں جاری بھارتی جبر کی ایک واضح مثال ہے۔بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ( این آئی اے) کی ایک عدالت نے آسیہ اندرابی اور انکی ساتھیوں کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون (یو اے پی اے) کے تحت درج ایک مقدمے میں مجرم قرار دے دیاہے۔ انہیں17جنوری کوسزا سنائی جائے گی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قانونی ماہرین نے کشمیری خواتین رہنماﺅں کے تئیں بھارتی حکام کے ظالمانہ رویے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان تینوں کو اپنے گھروں سے بہت دور قید رکھا گیا اور اب انہیں جھوٹے لزامات میں سزائیں سنائی جائیں گی، یہ سب محض سیاسی انتقام ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے کشمیریوں کا حق خود ارادیت تسلیم کر رکھا ہے ، آسیہ اندرابی اس حق کی حمایت کرتی اور کشمیریوں پر جاری بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں جس کی پاداش میں انہیں سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ہے۔ ایک کشمیری ماہر قانون نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ یہ معاملہ آسیہ اندرابی اور انکی ساتھیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ہر کشمیری خاتون کیلئے ایک پیغام ہے کہ اگر اس نے حق و صداقت کی آواز بلند کی تو اسے انتقام کا نشانہ بنایاجائے گا۔
ماہرین قانون نے کہا کہ ان تینوں کو پہلے ہی گھروں سے سینکڑوں میل دور تقریباآٹھ برس تک جیل میں رکھا گیا ، طبی سمیت بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں اوراب انہیں ممکنہ طور پر سترہ جنوری کو عمر قید سنائی جائے گی جبکہ یہ تینوں پہلے ہی آٹھ برس جیل کاٹ چکی ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ یہ سب سراسر غیر قانونی اور غیر انسانی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button