مضامین

کپواڑہ قتل عام: جب بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ منانے پر بیسیوں لوگوں کو قتل کیا گیا

تحریر: ارشد میر

کشمیری عوام آج ان بیسیوں ہم وطنوں کو یاد کررہے ہیں جنھیں 1994 میں آج ہی کے روز قابض اور درندہ صفت بھارتی فوجیوں نے صرف اس بناء پر خاک و خون میں غلطاں کیا تھا کہ انھوں نے ایک روز پہلے، 26 جنوری بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر کیوں منایا ؟ بھارت کے قومی دنوں کو یوم سیاہ کے طور پر منانا کشمیریوں کی حریت پسندانہ روایت کا حصہ رہا ہے۔ 45 سال تک بھارت کے سیاسی نظام کے اندر رہ کر پرامن اور سیاسی طور پر حق خودارایت واگذار کرانے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد جب 1989-90 میں کشمیریوں کی اس وقت کی نوجوان نسل نے تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق مسلح جدوجہد شروع کی اور پوری کشمیری قوم کی والہانہ وابستگی کے ساتھ ایک انقلاب برپا کیا تو بھارت نے پوری قوم کو اجتماعی سزاء دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے10 لاکھ فوج مسلط کرنے کے ساتھ ساتھ فاروق عبداللہ کی حکومت ختم کرکے گورنر راج نافذ کیا۔ جگ موہن ملہوترا کو اس مقصد کے لئے بھی بطور گورنر مقرر کیا گیا کہ اول تو وہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی فوج کی خون آشام کاروائیوں میں کسی انتظامی رکاوٹ کو آڑے نہ آنے دیں اور دوسرا پنڈتوں کو کشمیر سے نکال کر کشمیریوں کی خالص عوامی اور سیاسی تحریک آزادی کو فرقہ وارانہ رنگ دیں۔ چناچہ اپنے تقرر کے پہلے روز ہی جگ موہن نے ریویڈیواور ٹی وی پہ خطاب میں کشمیریوں کو دھمکی دی۔ اگلے روز بھارتی فوجیوں نے سرینگر کے چوٹہ بازار میں تلاشی آپریشن کے دوران درجنوں خواتین کی عصمت دری کی جن میں سے بعد ازاں 8 کے کیسز درج بھی ہوئے۔ چوٹہ بازار اور ملحقہ علاقوں کے لوگوں نے اگلے روز اس قبیح اور دلخراش سانحہ کے خلاف پر امن احتجاجی مارچ شروع کیا۔ راستے میں ہزاروں لوگ اس میں شامل ہوگئے اور جب وہ گاؤکدل میں دریائے جہلم کے پل پر سے گذرنے لگے تو بھارتی فوجیوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ متعدد لوگ شہید و زخمی ہوئے جبکہ بعض نے گولیوں سے بچنے کے لئے دریائے جہلم کے یخ بستہ پانی میں چھلانگیں لگائیں۔ ریکارڈ پر شہداء کی تعداد 51 درج ہے تاہم عینی شاہدین، انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافتی تحقیقات خاص طور پر برطانوی صحافی ولیم ڈالرمپَل کے مطابق یہ تعداد سینکڑوں میں تھی۔
اس سانحہ کے بعد مقبوضہ علاقہ میں اجتماعی قتل عام کے سانحات کا ایک خوفناک سلسلہ شروع ہوا ۔سانحہ گاؤ کدل کے صرف چار روز بعد یعنی 25جنوری 1990ء کو قابض فوج نے کپواڑہ ضلع کے ہندواڑہ قصبے میں اندھا دھند فائرنگ کرکے کم از کم 25نہتے اور بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیا۔19جنوری 1991ء کو سرینگر کے مگھرمل باغ میں خواتین سمیت 14 شہریوں کو بلااشتعال فائرنگ کر کے قتل کیا۔ 6 جنوری 1993ء کو سوپور میں 60 شہری قتل کیے اور پورے قصبے کو آگ لگادی جس کے نتیجے میں 350 سے زیادہ دکانیں، مکانات اور دیگر عمارتیں جل کر راکھ ہو گئیں۔27جنوری 1994ء کو بھارتی یومِ جمہوریہ کے ایک دن بعد، بھارتی فوج نے کپواڑہ میں 27 شہریوں کا قتلِ عام کیا۔ وقوعہ سے ایک روز پہلے بھارتی فوج کی ٹولیاں کپواڑہ کے بازار میں آن دھمکیں اور دکانداروں، معززین اور دیگر شہریوں کو متنبہ کیا کہ اگر کل بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر ہڑتال کی تو بدترین سزاء دی جائے گی۔ اگلے روز جب اہل کپواڑہ نےاپنی حریت پسندانہ روایت کے مطابق کشمیر کے دیگر علاقوں کے لوگوں کے ساتھ ہڑٹال کرکے بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منایا تو اگلے روزصبح ہی بھارتی فوج نے یہ مثال قائم کرنے کے لئے کہ وہ اپنی ہدایات میں کتنی پکی ہے، کپواڑہ بازار میں خون کی ہولی کھیلنا شروع کیا۔ وردی پوش درندوں کے سامنے جو بھی آتا وہ اسے گولیوں سے بھون دیتے تھے۔ کپواڑہ بس اڈے میں سواریوں سے بھری ایک بس اپنی منزل کی طرف روانہ ہونے والی ہی تھی کہ وحشی فوجیوں نے اس کو نشانہ بنایا۔ ایک نائی سمیت کئی دکانداروں نے اپنی اور گاہکو ں کی جانے بچانے کے لئے دکانوں کے شٹر گرا کر چھپنے کی کوشش کی مگر بھارتی فوجیوں نے انھیں یا تو باہر ہی سے گولیوں کا نشانہ بنایا یا پھر دکانوں کو آگ لگادی۔ اس واقع کا ذکر کرتے ہوئے بھی انسان کانپ جاتا ہے۔ اُس وقت ان لوگوں کا کیا حال ہوا ہوگا جن پر یہ قیامت صغریٰ ڈھائی گئی؟
قابل ذکر ہے کہ برطانوی سامراج سے آزادی کی جدوجہد کے دوران پورے ہندوستان میں اس نوعیت کا صرف ایک جلیانوالہ باغ کا سانحہ پیش آیا تھا مگر برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے والے نام نہاد جمہوری بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں90 کی دہائی کے دوران قتل عام کے30 سانحات کا ارتکاب کیا جن میں بیشتر 1990 سے لیکر 1994 کے چار برسوں میں پیش آئے۔ ان میں بھی سب سے زیادہ جنوری کے مہینے میں رونما ہوئے چنانچہ جنوری کا مہینہ کشمیریوں کے لیے صرف بھارتی یومِ جمہوریہ کے حوالہ سے یوم سیاہ کا ہی نہیں بلکہ قتلِ عام کی ایک خونی تاریخ کا استعارہ بھی ہے۔ اس کو خونی مہینہ بھی کہا جاتا ہے۔
قتل عام کے30 اور اجتماعی آبروریزی کے ایک درجن واقعات کے علاوہ گذشتہ ساڑھے تین دہائیو ں کے دوران انسانیت کے خلاف بھیانک جرائم کا ارتکاب کرنے والے بھارتی فوجیوں کو سزاء دینا تو دور کی بات، پتھری بل سانحہ میں ملوث برگیڈئر اجے سکسینہ سمیت بہت سے ایسے مجرم فوجیوں کو گیلنٹری ایواڑز اور 2019 کی آئینی جارحیت کے بعد سے بچوں سمیت کشمیر کی شہریت اور پلاٹس سے نوازا گیا۔
مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت کی تاریخ کشمیریوں کے خون میں لتھڑی ہوئی ہے۔ ان خونریز سانحات نے کشمیری عوام کی اجتماعی یادداشت پر گہرے اوران مٹ نشان قائم کئے ہیں مگروہ بھارت کے یہ ستم بھولنے والے نہیں ہیں۔وہ انہی دکھوں، انہی زخموں کو اپنی طاقت بناکر مزاحمت جاری رکھیں گے۔ یہی شہدائے کپوارہ اور دیگر لاکھوں شہداء کی پکار ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button