مقبوضہ جموں و کشمیر

بھارت کشمیریوں کے عزم کو توڑنے کے لیے جنسی تشددکو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق اور سول سوسائٹی کے کارکنوں نے کہا ہے کہ بھارتی فورسز کے اہلکارکشمیری خواتین کو منظم طریقے سے نشانہ بنارہے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کارکنوں نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر کہا کہ مقبوضہ علاقے میں کئی دہائیوں سے جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود کشمیری خواتین کودرپیش مشکلات اور قربانیوں کو نظر انداز کیا جارہاہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوجیوں نے گزشتہ 37 سال کے دوران کشمیری خواتین کے خلاف گھناﺅنے جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔کشمیری خواتین محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں، گھروں پر چھاپوں اور اپنے پیاروں کی جبری گمشدگی کی وجہ سے مسلسل نفسیاتی صدمے کا شکار ہیں۔ کارکنوںنے کہا کہ ان کارروائیوں کے دوران بھارتی فوجیوں کی طرف سے خواتین کو ہراساں کرنا اور انہیں ڈرانادھمکانا ایک معمول بن چکاہے۔ان کا کہنا تھا کہ جنوری 1989 سے بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ علاقے میں 11 ہزار 269 خواتین کی بے حرمتی کی ہے جبکہ اس دوران کم از کم 22 ہزار 991 خواتین بیوہ ہو چکی ہیں۔کارکنوں نے کہا کہ علاقے میں بیواو¿ں اورنیم بیواو¿ں کی بڑی تعداد بھارتی فورسز کی بربریت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عصمت دری اور جنسی تشدد کو کشمیری عوام کے عزم کو توڑنے کے لیے ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوںنے کشمیری خواتین کے خلاف بھارتی فوجیوں کے جرائم کو بے نقاب کرنے کی ضرورت پر زور دیا اورمجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے خواتین کے حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں خواتین کی حالت زار پر خاموش تماشائی نہ بنیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم پر بھارت کا محاسبہ کرے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button