حمید لون کا حریت کانفرنس سے کوئی تعلق نہیں ہے
''عوامی ایکشن کمیٹی'' کے بارے میں انکے بیان کو حریت سے منسوب نہ کیا جائے،غلام محمد صفی ودیگر
اسلام آباد:
کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ نے کہا ہے کہ عبد الحمید لون کا حریت کانفرنس سے کوئی تعلق نہیں ہے، لہذا ” جموں وکشمیر عوامی ایکشن کمیٹی” کے حوالے سے ان کے حالیہ بیان کو حریت سے منسوب نہ کیا جائے۔
کشمیر میڈیاس سروس کے مطابق حریت کانفرنس کے کنوینر جناب غلام محمد صفی، جنرل سکریٹری ایڈووکیٹ پرویز احمد اور سیکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ نے ایک مشترکہ بیان میں دوٹوک وضاحت کی ہے کہ حریت کانفرنس کی جانب سے ذرائع ابلاغ کے لئے جاری کئے جانے والے تمام بیانات صرف اور صرف تنظیم کی مجاز اور آئینی قیادت یعنی کنوینر، جنرل سکریٹری یا سیکریٹری اطلاعات کی طرف سے جاری ہوتے ہیں۔ لہذا کوئی بھی ایسا بیان، خبر یاموقف کو جو ان ذمہ داران کے علاوہ کسی اور ذریعے سے منظر عام پر آئے، ہرگز حریت کانفرنس کی پالیسی یاموقف تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے اس تیز رفتار اور ہنگامہ خیز دور میں بعض اوقات ایسے بیانات بھی منظر عام پر آ جاتے ہیں جو حقیقت کے بالکل برعکس ہوتے ہیں اور تنظیمی موقف کی غلط ترجمانی کا باعث بنتے ہیں، اس لیے میڈیا اداروں، صحافی برادری اور عوام الناس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خبر یا بیان کی اشاعت سے قبل اس کے مستند ہونے کی تصدیق کریں اور صرف انہی بیانات کو بنیاد بنائیں جو حریت کانفرنس کے ذمہ داران کی جانب سے باضابطہ طور پر جاری کیے گئے ہوں۔
کل جماعتی حریت کانفرنس آزادکشمیرشاخ نے اپنے اس اصولی موقف کو دہراتے ہوئے واضح کیا کہ تنظیم کی بنیادی اور غیر متزلزل پالیسی یہ ہے کہ وہ آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان کی داخلی سیاست میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں کرتی ، حریت کانفرنس اپنے دائرہ کار اور جدوجہد کو خالصتا ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت تک محدود رکھے ہوئے ہے، جو بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور اصولِ انصاف کے عین مطابق ہے۔ تنظیم اپنی اس جدوجہد کو سیاسی، سفارتی اور عوامی سطح پر مختلف فورموں اور محاذوں پر منظم، پرامن اور موثر انداز میں جاری رکھے ہوئے ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ حریت کانفرنس اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک بین الاقوامی تنازعہ ہونے کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ اور بالخصوص پاکستانی عوام کے جذبات سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ اسی تناظر میں تنظیم نے یہ اصولی پالیسی اختیار کر رکھی ہے کہ پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کی تمام سیاسی، سماجی اور مذہبی جماعتیں، تنظیمیں اور طبقات فکر کشمیر کاز کےحوالے سے متحد اور یکسو رہیں۔ حریت کانفرنس ہر اس مثبت اور مخلصانہ کوشش کا خیرمقدم کرتی ہے جو مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کے لئے کی جائے۔
انہوںنے اپنے بیان میں اتحاد امت، تنظیمی نظم و ضبط اور داخلی ہم آہنگی کے حوالے سے یہ وضاحت بھی کی کہ حریت کانفرنس کسی بھی سطح پر پائے جانے والے کسی بھی قسم کے اختلافِ رائے یا تحفظات کو میڈیا کے ذریعے عوامی سطح پر زیر بحث لانے کے بجائے باہمی مشاورت، سنجیدہ مکالمے اور بند کمرے میں افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد نہ صرف تنظیم کے وقار، سنجیدگی اور اتحاد کو برقرار رکھنا ہے بلکہ دشمن عناصر کو کسی بھی قسم کے منفی پروپیگنڈے کا موقع فراہم نہ کرنا بھی ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس آزادکشمیر شاخ کے قائدین نے عوام الناس، صحافیوں، تجزیہ نگاروں اور تمام متعلقہ حلقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ماضی میں جاری ہونے والے بیانات اور مستقبل میں سامنے آنے والی کسی بھی خبر یا موقف کو حریت کانفرنس کی اس باضابطہ وضاحت کی روشنی میں پرکھیں۔ بیان میں عوام الناس سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ صرف مستند اور ذمہ دار ذرائع پر اعتماد کریں اور کسی بھی غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات کو آگے پھیلانے سے اجتناب کریں، تاکہ مسئلہ کشمیر کی حساسیت، سنجیدگی اور اصل روح کو برقرار رکھا جا سکے۔حریت کانفرنس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے اصولی مقف، تنظیمی نظم و ضبط اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کے لئے اپنی جدوجہد کو ہر سطح پر جاری رکھے گی اور اس مقصد کے حصول تک کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔بیان میں” فرینڈز آف کشمیر ”کے متعلق واضح کیا گیا کہ وہ حریت کانفرنس کا حصہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر کشمیر کے لئے کام کرنے والی ایک الگ اور خود مختار تنظیم ہے لہذا عبدالحمید لون کے بیان سے متعلق وضاحت ان سے یا ان کی تنظیم سے طلب کی جانی چاہیے۔KMS-16/M








