جماعت اسلامی ہند کا کمال مولا مسجد معاملے میں عدالتی فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار
نئی دہلی: جماعتِ اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے ریاست مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے میں کمال مولا مسجد کو مندر قرار دئے جانے پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے عدالتی نظام کی ساکھ، اقلیتی حقوق، مذہبی آزادی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ملک کے سیکولر ڈھانچے پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق امیر جماعت اسلامی ہند نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ آئین کے آرٹیکل 25 اور 26 میں دئے گئے مذہبی حقوق کے تحفظ کے منافی ہے۔ کئی دہائیوں تک بھوج شالا کمپلیکس ایک ایسے انتظام کے تحت چلتا رہا جہاں دونوں فرق کے افراد اپنی اپنی مذہبی رسومات ادا کرتے آئے تھے۔ مسلمانوں کے مذہبی حقوق کو ختم کرکے دوسرے فرقے کو ترجیح دینا نہ صرف انتظامی امور کو متاثر کرتا ہے بلکہ تمام مذاہب کے مساوی حقوق کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایسے حساس معاملات کو احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر بھارت جیسے کثیر الجہتی معاشرے میں توازن برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے۔سید سعادت اللہ حسینی نے مزید کہا کہ قائم شدہ مسجد کے بدلے مسلمانوں کو متبادل زمین دینے کی تجویز بھی تشویش ناک ہے۔ مذہبی حقوق کو محض جگہ یا منتقلی کا مسئلہ نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ عبادت گاہیں تاریخی تسلسل، شناخت اور اجتماعی یادداشت سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ ایسے اقدامات جواقلیتی طبقے کو تاریخی مذہبی مقام سے بے دخل کرتے ہوں ، سماج میں احساس محرومی اور ناانصافی کو جنم دیتے ہیں۔ حساس معاملوں میں عدالتی فیصلے متنازع تاریخی شواہد اور آثارِ قدیمہ کی تشریحات پر انحصار گہری تشویش کا باعث ہیں۔ ایسے معاملوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ کسی ایک فریق کے دعووں کو غیر مناسب طور پر ترجیح نہ دی جائے۔
سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ اس فیصلے کو ماضی کے فیصلوں سے کو الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ یہ ایک وسیع تر رجحان کا حصہ ہے جس میں مذہبی مقامات سے متعلق تنازعات کو دوبارہ چھیڑا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا عبادت گاہوں سے متعلق1991 کے قانون کو من عن نافذ کیا جانا چاہیے تاکہ تاریخی تنازعات کو دوبارہ سر اٹھانے کا موقع نہ ملے۔ امیر جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ عدلیہ کو نہ صرف غیر جانب دار ہونا چاہیے بلکہ اس کی غیر جانب داری نظر بھی آنی چاہیے۔سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ اس معاملے میں مسلم برادری تمام قانونی راستے اختیار کرے گی۔







