فلسطین کے حامی کارکنوں کا بھارت سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی پر اظہارِ تشویش
بھارت نے ملٹری گریڈ اسٹیل کی6کھیپیں اسرائیلی اسلحہ ساز فیکٹریوں کیلئے روانہ کی ہیں
نئی دلی: فلسطین کے حامی کارکنوں کے اتحاد اور یکجہتی گروپوں نے بھارت سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی میں اضافے پرسخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ بھارت نے ملٹری گریڈ اسٹیل کی متعدد کھیپیں اسرائیلی اسلحہ ساز فیکٹریوں کیلئے روانہ کی ہیں ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بائیکاٹ، ڈیویسٹمنٹ اینڈ سینکشنزموومنٹ اورنو ہاربر فار جینوسائیڈ کے کارکنوں نے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے اسرائیل بھجوائی گئی ان 6کھیپوں میں تقریبا 806 ٹن ملٹری گریڈ اسٹیل شامل ہے جواسرائیلی فوج کے لیے ہزاروں 155ملی میٹر توپ کے گولے تیار کرنے میں استعمال ہو سکتا ہے۔کارکنوں کے مطابق جنیوا میں قائم میڈیٹیرینین شپنگ کمپنی کی طرف سے لے جانے والی تین کھیپیں فی الحال معائنہ کے لیے اٹلی میں روکی گئی ہیں جبکہ دو دیگر Gioia Tauro میں ہیں، جہاں حکام پر کارگو کا معائنہ کرنے کے لیے دبائو ڈالا جا رہا ہے۔ ایک اور کھیپ، جس میں 206 ٹن ملٹری گریڈ سٹیل تھا، مبینہ طور پر سری لنکا کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارت شپنگ روٹس اور منزل کے مقام کو تبدیل کر کے بین الاقوامی نگرانی سے بچنے کی کوشش کررہا ہے۔بی ڈی ایس تحریک سے وابستہ ملٹری ایمبارگو کوآرڈینیٹر الہام یاسین نے مطالبہ کیا ہے کہ ملٹری اسٹیل کی سپلائیز کو اسرائیل تک پہنچنے سے روکا جائے اور متعلقہ کمپنیوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔رپورٹ کے مطابق گروپوں نے دعوی کیا کہ ملٹری اسٹیل کی یہ کھیپیں رواں سال جنوری سے مارچ کے دوران مہاراشٹر کی بندرگاہ نہوا شیوا سے روانہ کی گئیں اور ان کا تعلق اورنگ آباد میں قائم ایک بھارتی کمپنی سے ہے جبکہ ان کا ممکنہ ہدف اسرائیل میں اسلحہ سازفیکٹریاں ہیں۔فلسطین کے حامی کارکنوں نے کہاہے کہ غزہ میں جاری جنگ کے تناظر میں بھارت سے اسرائیل کو مبینہ فوجی سازوسامان کی فراہمی غزہ میں نہتے فلسطینیوں پر جاری صیہونی مظالم میں بھارت کے بڑھتے ہوئے کردار کی نشاندہی کرتی ہے، جبکہ انہوں نے عالمی برادری سے اس معاملے کا فوری نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کیاہے۔







