سرینگر : بھارتی انتظامیہ نے عید گاہ مزا شہداء سیل کردیا، میر واعظ گھر میں نظر بند
بھارت نے کشمیریوں کو مذہبی حقوق بھی سلب کر رکھے ہیں

سرینگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی انتظامیہ نے آج مزار شہید عید گاہ سرینگر سیل کردیا ہے ۔ انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق کو بھی گھر میں نظر بند کر دیا ہے۔ اس جابرانہ کارروائی کا مقصد معروف آزادی پسند رہنما میر واعظ مولوی محمد فاروق اور خواجہ عبدالغنی لون کی شہادت کی برسیوں پر آج مزار شہداء پر ہونے والی ایک دعائیہ تقریب کو روکنا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی انتظامیہ نے گزشتہ روز شام کے وقت نہ صرف مزار شہدا کو سیل کر کے اس کے اطراف میں بھارتی فورسز کی بھاری نفری تعینات کر دی بلکہ میر واعظ عمر فاروق جنہوں نے وہاں منعقدہ تقریب کی صدارت کرنا تھی کو بھی گھر میں نظر بند کیا۔
عینی شاہدین نے بتایا لوگوں کو شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے سے روکنے کے لیے عید گاہ کی طرف جانے والے تمام راستوں کو سیل کر دیا۔ پابندیوں سے علاقے میں سخت غم وغصے کی لہر ڈوڈ گئی ہے۔
نامعلوم مسلح افراد نے میر واعظ مولوی محمد فاروق کو 21 مئی 1990 کو سرینگر میں ان کی رہائش گاہ پر نامعلوم فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا، بھارتی فوجیوں نے اسی روز سری نگر کے علاقے حول میں ان کے جنازے کے جلوس پر اندھا دھند فائرنگ کر کے 70 سے زائد سوگواروں کو بھی شہید کر دیا تھا۔ 21 مئی 2002 کو نامعلوم حملہ آوروں نے خواجہ عبدالغنی لون کو اس وقت گولی مار کر شہید کر دیا جب وہ سری نگر کے شہدا قبرستان میں میر واعظ مولوی محمد فاروق کی برسی کے سلسلے میں منعقدہ دعائیہ تقریب میں شرکت کے بعد واپس جا رہے تھے۔
یا د رہے کہ بھارت نے کشمیریوں کے دیگر بنیادی حقوق کے ساتھ ساتھ مذہبی حقوق بھی سلب کررکھے ہیں۔ کشمیری مسلمانوں کی نما ز جمعہ اور عید کی نماز سے روکا جاتا ہے ، سرینگر کی تاریخی جامع مسجد بھی اکثر و بیشتر سیل کی جاتی ہے، علاقے میں محرم الحرام کے جلوسوں پر بھی قدغنیں عائد کی جاتی ہیں۔







