مقبوضہ جموں وکشمیر ماحولیاتی بحران کی شدید زد میں،جھیل ڈل آلودگی کی خطرناک سطح پر
وادی کشمیر کو آنے والے برسوں میں پانی کی قلت ، گلیشیئرزکے خاتمے جیسے خطرات کا سامنا کرنا پڑسکتاہے، تحقیق

سرینگر:عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر منظر عام پر آنے والی ایک سائنسی تحقیق نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر کی ماحولیاتی صورتحال پر سنگین خدشات کا اظہار کرتے ہوئے خبر دار کیا ہے کہ اگر موجودہ رحجانات جاری رہے تو وادی کشمیر کو آنے والے برسوں میں پانی کی سخت قلت ، فضائی آلودگی ، گلیشیئرز کے خاتمے اور آبی ذخائر کی تباہی جیسے بڑے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ماڈل انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جموںکے محققین کی طرف سے شائع شدہ تحقیقی مقالے میں کہا گیا ہے کہ کشمیرکے قدرتی وسائل شدید دبائو کا شکار ہیں جبکہ ماحولیاتی قوانین کے باوجود ان پرعملدرآمد میںسنگین خامیاںموجود ہیں ۔ تحقیق میں بتایا کہ کشمیر کا سب سے بڑا کولاہوئی گلیشئیر گزشتہ چھ دہائیوںکے دوران اپنے رقبے کا 25فیصد حصہ سے زیادہ کھو چکا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گلیشیئر سالانہ تقریبا 35میٹر سکڑ رہا ہے اور اسکی موٹائی میں ہر برس اوسطاً ایک میٹر کی کمی واقع ہو رہی ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ صورتحال دریائے جہلم ، لیدر اورچناب جیسے اہم آبی ذرائع کے مستقل کیلئے خطرے کی علامت ہے۔ رپورٹ میں سرینگر کی شہرہ آفاق جھیل ڈل کی تشویشناک حالت بھی اجاگر کی گئی ہے ۔ اعداد وشمار کے مطابق جھیل ڈل کا رقبہ ماضی کے 22مربع کلو میٹر سے کم ہو کر تقریبا18مربع کلو میٹر رہ گیا ہے۔
یاد رہے کہ بھارت نے مقبوضہ جموںوکشمیر پر اپنے غیر قانونی قبضے کو برقرار رکھنے کیلئے علاقے میں دس لاکھ سے زائد فورسز اہلکار تعینات کر کے اسے دنیا کا سب سے بڑا فوجی تعیناتی والا علاقہ بنادیا ہے۔ غاصب بھارت مقبوضہ علاقے کے جنگلات اور دیگر قدرتی وسائل کو بے دریغ لوٹ رہا ہے ۔ بھارتی فوجیوںنے علاقے میں چپے چپے پر اپنے کیمپ اور تربیتی مراکز قائم کر رکھے ہیں جس سے وہاںکے ماحولیاتی نظام پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ امرناتھ یاترا کے سلسلے میںلاکھوں بھارتی ہندو یاتری ہر برس وادی کشمیری کا رخ کرتے ہیں ۔ بڑی تعداد میں یاتریوں کی موجودگی سے بھی وادی کا قدرتی ماحول شدید متاثر ہو رہا ہے۔ عالمی یوم ماحولیات ہربرس 5جون کو منایا جاتا ہے۔





