مقبوضہ کشمیر : ہندو امرناتھ یاترا کے نام پربھارتی فوج کے اضافی دستوں کی تعیناتی کا مرحلہ وار آغاز

سرینگر:مودی کی بھارتی حکومت نے ہندو امرناتھ یاترا کے لئے سیکورٹی کے نام پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض فوج کے اضافی دستوں کی تعیناتی کا مرحلہ وار آغاز کردیا ہے، جس سے مقبوضہ علاقے میں پہلے سے لاکھوں کی تعداد میں تعینات فوجیوں کی تعداد میں مزیداضافہ ہوگیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سینٹرل آرمڈ پولیس فورسزکے اضافی دستوں کی تعیناتی آپریشن سنجی 2026کے تحت کی جا رہی ہے۔قابض انتظامیہ کے مطابق پیراملٹری اہلکاروں کی تعیناتی کا آغاز ہو چکا ہے جو سالانہ امرناتھ یاترا کے اختتام تک مرحلہ وار جاری رہے گا۔پہلے مرحلے میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی 115کمپنیاں تعینات کی جا رہی ہیں، جن میں 20اضافی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ قابض حکام نے ڈرونز، انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز اور پہلگام اور بالتل کے روٹس پر حفاظتی انتظامات کو سخت کرنے کیلے نگرانی کا وسیع منصوبہ بھی بنایا ہے۔
مبصرین کے مطابق امرناتھ یاترا کو محفوظ بنانے کے نام پر ہر سال قابض فورسز کے ہزاروں اضافی دستے تعینات کیے جاتے ہیں، جس سے مقبوضہ علاقے پر بھارت کے فوجی تسلط کو مزید مضبوط بنایا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس طرح کی تعیناتیوں کے دوران شامل کیے گئے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد اکثر یاترا کے اختتام کے بعد بھی مقبوضہ جموں و کشمیر میں تعینات رہتی ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیکورٹی کے نام پر بار بارقابض فوجیوں کی تعیناتی کی وجہ سے جموں وکشمیر کودنیا کے سب سے زیادہ فوجی علاقوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں قابض فوجیوںکی بڑی تعداد میں تعیناتی ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد مقبوضہ علاقے پر بھارت کے کنٹرول کو مستحکم کرنا اور سیاسی اختلاف کو دبانا ہے۔57روزہ امرناتھ یاترا 3 جولائی کو شروع ہوگی جو 28اگست تک جاری رہے گی ۔





