بھارت :پیپر لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف کانگریس کا ملک گیر مہم چلانے کا اعلان

نئی دہلی: بھارت میںکانگریس پارٹی نے پیپر لیک، امتحانی بے ضابطگیوں، بے روزگاری اور نوجوانوں کودرپیش مسائل کواجاگرکرنے کے لئے 17جون سے ملک گیر مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کانگریس کے جنرل سیکریٹری کے سی وینوگوپال نے ایک بیان کہا کہ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی رہنمائی اور راہل گاندھی کی قیادت میں یہ مہم شروع کی جا رہی ہے جس کا مقصد ملک بھر کے طلباءاور نوجوانوں کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ مہم کا آغاز 17 جون کو راجستھان کے کوٹا سے ہوگا۔ اس کے بعد 10 جولائی کو الٰہ آباد، 11 جولائی کو پٹنہ اور 14 جولائی کو دہلی میں بڑے طلباءکنونشن منعقد کیے جائیں گے۔ ان پروگراموں میں طلبائ، نوجوان تنظیموں، اساتذہ اور امتحانی بے ضابطگیوںسے متاثر ہ افراد کو شریک کرنے کی کوشش کی جائے گی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ راہل گاندھی ملک کے نوجوانوں اور طلباءکی آواز کے طور پر ابھرے ہیں اور وہ ان مسائل کو قومی سطح پر اٹھا رہے ہیں۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل بار بار ہونے والے پیپر لیک واقعات، امتحانات کے بڑھتے اخراجات اور شفاف بھرتی و تعلیمی نظام کی عدم موجودگی سے متاثر ہو رہا ہے جس پر توجہ دینا ضروری ہے۔پارٹی کے مطابق اس مہم کے دوران نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا، یوتھ کانگریس، ریاستی اور ضلعی کانگریس کمیٹیوں سمیت مقامی تنظیمی ڈھانچے کو متحرک کیا جائے گا۔ طلباءتک رسائی کے لیے تعلیمی اداروں، کوچنگ مراکز اور نوجوانوں کے مراکز میں رابطہ مہم چلائی جائے گی۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا مہم، عوامی رابطے، ڈیجیٹل دعوت نامے اور نوجوانوں کے ساتھ براہ راست مکالمے کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔کانگریس نے کہا ہے کہ اس مہم کا مقصد سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہے تاکہ وہ اپنے تجربات بیان کر سکیں اور امتحانی نظام میں بار بار سامنے آنے والی خامیوں اور پیپر لیک معاملات پر جواب دہی کا مطالبہ کر سکیں۔پارٹی نے واضح کیا کہ مہم کے دوران راہل گاندھی کی جانب سے کئے گئے مطالبات کو عوام کے درمیان لے جایا جائے گا۔ ان مطالبات میں نیٹ امتحان کے نظام میں اصلاحات، امتحانی فیس میں راحت، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور اعلیٰ سطح پر جواب دہی طے کرنے جیسے نکات شامل ہیں۔کے سی وینوگوپال نے کہا کہ کانگریس ان مسائل کو قومی اہمیت کا معاملہ سمجھتی ہے۔ اسی لیے پارٹی پارلیمنٹ میں نوجوانوں کو درپیش بحران پر جامع بحث کا مطالبہ کرے گی اور ان کے حقوق، مفادات اور مستقبل کے تحفظ کے لیے ضروری قانون سازی کی حمایت کرے گی۔






