مضامین

کشمیر: ریاستی جبر، آبادیاتی تبدیلی اور ناقابل شکست مزاحمت

ارشد میر

بھارت کے غیر قانونی اور جبری تسلط میں گھرا جموں و کشمیر نہ صرف بین الاقوامی طور پر مسلمہ متنازعہ ریاست کا ایک بڑا حصہ ہے بلکہ انسانی ضمیر، قومی تشخص اور حقِ خودارادیت کی بقا کی ایک عظیم علامت بن چکا ہے۔ اکتوبر 1947 میں بھارتی تسلط قائم ہونے کے بعد ہی سے مقبوضہ علاقہ کےعوام اپنے بنیادی، سیاسی اور انسانی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں ، انھوں نے 45 سال تک بھارت کے سیاسی نظام کے اندر رہ کر پرامن جدوجہد کی مگر جب بھارت نے اس کاغلط فائدہ اٹھاکر انھیں حق خودارادیت دینے کے اپنے وعدوں کا ایفاء کرنے کے بجائے اپنے ناجائز قبضہ کو مضبوط کرنے کی کوششیں کیں تو 1990 میں کشمیریوں کی نوجوان نسل نے اقوام متحدہ کے چارٹر میں دی گئی اجازت کے تحت بندوق اٹھالی ۔ بھارت نے اس پر پوری کشمیری قوم کو اجتماعی سزاء دینے کے لئے ان پر 10 لاکھ فوج مسلط کی جس نے بڑے پیمانے پر قتل و غارت کی۔ یہ فوج ہر سال مختلف بہانوں کے تحت تعداد میں اضافہ کے ساتھ بدستور ریاستی دہشت گردی کا ارتکاب کررہی ہے۔ تین دہائیوں کے دوران ایک لاکھ کے قریب لوگوں کو شہید ، دو لاکھ کو گرفتار، 10 ہزار کو زیر حراست غائب ، پونے دو لاکھ گھروں کو مسمار اور 11 ہزار خواتین کی آپروریزی کرنے کے باوجود جب کشمیریوں کے جذبۂ حریت اور عزم و استقلال کو شکست نہ دی جا سکی تو انہیں عددی اور تہذیبی طور پر مٹانے یا زیرِ دست کرنے کے لیے اسرائیل سے مستعار لیے گئے نسخے پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا۔5 اگست 2019 کے بعد ہندو فسطائی مودی حکومت نے جس شدت اور منصوبہ بندی کے ساتھ کشمیر کی منفرد شناخت کو مٹانے کی کوششیں شروع کیں، وہ نہ صرف کشمیری عوام کے وجود پر حملہ ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور انسانی حقوق کے مسلمہ اصولوں کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔

آج مقبوضہ جموں و کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض انتظامی تبدیلیوں یا سیاسی فیصلوں کا سلسلہ نہیں بلکہ ایک ایسی منظم حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد کشمیری عوام کو ان کی زمین، ان کی شناخت، ان کی ثقافت اور ان کے تاریخی تشخص سے محروم کرنا ہے۔ فسطائی سوچ سے سرشار بھارتی قیادت نے طاقت، جبر اور ریاستی مشینری کے بے دریغ استعمال کے ذریعے ایک ایسے منصوبے پر عمل درآمد شروع کر رکھا ہے جس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی دراصل اسی منصوبے کا مرکزی ستون تھی۔ یہ دفعات بھارتی آئین میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت اور اس کے منفرد تشخص کی ضامن تھیں۔ ان کا خاتمہ صرف ایک قانونی اقدام نہیں تھا بلکہ کشمیری عوام کی اجتماعی شناخت پر براہ راست حملہ تھا۔ اس اقدام کے ذریعے نہ صرف مقبوضہ علاقے کی سیاسی حیثیت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کیا گیا بلکہ اس کے بعد ایسے قوانین اور پالیسیاں متعارف کروائی گئیں جن کا بنیادی مقصد آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا اور مقامی آبادی کو اپنی ہی سرزمین میں اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔ انہی پالیسیوں کے تحت اب تک لاکھوں بھارتی ہندوں کو مقبوضہ علاقہ کی باشندگی کی اسناد عطا کی گئیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قابض طاقت نے کسی قوم کی شناخت کو مٹانے کی کوشش کی، اس کے نتائج ہمیشہ تباہ کن ثابت ہوئے۔ قومیں صرف زمین کے ٹکڑوں سے نہیں بنتیں بلکہ ان کی بنیاد ثقافت، زبان، مذہبی اقدار، تاریخی شعور اور اجتماعی یادداشت پر استوار ہوتی ہے۔ کشمیر بھی ایک ایسی ہی زندہ حقیقت ہے جس کی پہچان اس کے لوگوں، ان کی تہذیب، ان کی بود وباش، رسم و رواج اور ان کی اجتماعی تاریخ سے وابستہ ہے۔ اگر اس شناخت کو کمزور یا تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو دراصل پوری قوم کے وجود کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

بھارتی حکومت کی جانب سے غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل جاری کرنا، زمینوں کی خریداری کے قوانین میں تبدیلی، بیرونی آبادکاروں کے لیے نئی راہیں کھولنا اور انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کرنا اسی وسیع تر منصوبے کے اجزاء ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد صرف آبادی کا تناسب بدلنا نہیں بلکہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو عملی طور پر بے معنی بنانا بھی ہے۔ کیونکہ اگر کسی متنازعہ خطے کی آبادی کی ساخت ہی تبدیل کر دی جائے تو مستقبل میں اس کے سیاسی مستقبل کے بارے میں ہونے والے کسی بھی فیصلے کی بنیاد متاثر ہو جاتی ہے۔

اس تمام عمل کے ساتھ ساتھ جبر و استبداد کی ایک خوفناک لہر بھی جاری ہے۔ بے شمار نوجوان جیلوں میں بند ہیں، گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، جائیدادیں ضبط کی جا رہی ہیں، لوگوں کو اپنے ہی قدرتی وسائل اور روزگار کے ذرائع سے محروم کیا جارہا ہے، ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کیا جارہا ہے، سیاسی کارکنوں کو خاموش کیا جا رہا ہے اور اختلافِ رائے کو جرم بنا دیا گیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پورا مقبوضہ علاقہ ایک ایسی خاموش جیل ہے جہاں ہر آواز کی نگرانی کی جاتی ہے اور ہر اختلاف کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
لیکن تاریخ کا ایک اٹل اصول ہے کہ ظلم جتنا بڑھتا ہے، مزاحمت اتنی ہی مضبوط ہوتی ہے۔ کشمیر کی سرزمین اس حقیقت کی زندہ مثال ہے۔ قریبا آٹھ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط قربانیوں، شہادتوں اور آزمائشوں کے باوجود کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ ان کے جذبۂ آزادی کو نہ بندوقوں سے دبایا جا سکا، نہ جیلوں سے اور نہ ہی کالے قوانین سے۔ ہر شہید کا لہو آزادی کے سفر میں ایک نئے عزم کو جنم دیتا ہے اور ہر قربانی اس جدوجہد کو مزید جواز اور طاقت فراہم کرتی ہے۔

کشمیری عوام کی جدوجہد صرف زمین یا اقتدار کے لیے نہیں بلکہ اپنی شناخت، وقار، تاریخ اور مستقبل کے تحفظ کے لیے بھی ہے۔ یہ ایک ایسی تحریک ہے جو انسانی آزادی کے عالمگیر اصولوں سے جڑی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہر انصاف پسند انسان کے لیے کشمیر کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ انسانی حقوق اور انصاف کا ایک بنیادی سوال ہے۔

افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عالمی برادری کی جانب سے اس صورتحال پر وہ توجہ نہیں دی گئی جس کی یہ متقاضی ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں آج بھی موجود ہیں، بین الاقوامی قوانین آج بھی نافذ ہیں اور انسانی حقوق کے عالمی اصول بھی اپنی جگہ قائم ہیں لیکن ان پر عمل درآمد کے حوالے سے مسلسل خاموشی اور بے عملی دیکھنے میں آتی ہے۔ یہ خاموشی نہ صرف کشمیری عوام کے زخموں کو گہرا کرتی ہے بلکہ عالمی نظامِ انصاف کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔
بین الاقوامی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی طاقتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادیاتی تبدیلی کی پالیسیوں، سیاسی جبر، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور شناخت کو مٹانے کی کوششوں کا سنجیدگی سے نوٹس لیں۔ اگر دنیا نے اس عمل کو نظر انداز کیا تو اس کے اثرات صرف کشمیر تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ ایک خطرناک مثال بن جائے گی کہ طاقت کے زور پر کسی بھی قوم کی شناخت اور سیاسی حیثیت کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کشمیر کا مسئلہ جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ یہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود قدیم ترین تنازعات میں سے ایک ہے اور اس کے حل میں تاخیر پورے خطے کے امن کو مسلسل خطرات سے دوچار رکھتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے۔
آج کشمیر کے پہاڑ، وادیاں، دریا اور بستیاں ایک ہی پیغام دے رہی ہیں کہ شناخت کو طاقت کے ذریعے مٹایا نہیں جا سکتا۔ قوموں کے وجود کو قوانین، فوجی طاقت یا آبادیاتی انجینئرنگ سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ کشمیری عوام نے اپنی قربانیوں سے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین، اپنی تہذیب، اپنے مذہبی تشخص اور اپنے حقِ خودارادیت کے تحفظ کے لیے ہر آزمائش کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ ایک حقیقت مزید واضح ہو رہی ہے کہ جبر کے ایوان ہمیشہ عارضی ہوتے ہیں جبکہ آزادی کی خواہش دائمی ہوتی ہے۔ طاقت کی بنیاد پر قائم پالیسیاں وقتی کامیابیاں حاصل کر سکتی ہیں لیکن وہ قوموں کے دلوں اور ضمیروں کو فتح نہیں کر سکتیں۔ کشمیر کی جدوجہد بھی اسی ابدی حقیقت کا استعارہ ہے۔ یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کشمیری عوام کو ان کا جائز، قانونی اور بنیادی حق حاصل نہیں ہو جاتا۔ یہی تاریخ کا فیصلہ ہے، یہی انصاف کا تقاضا ہے اور یہی کشمیری عوام کی ناقابلِ تسخیر امید اور عزم کا پیغام ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button