آزاد جموں وکشمیر کی صورتحال کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے ہرگز موازنہ نہیں کیا جاسکتا، ڈی ایف پی
معاملے کو دانشمندی اور مکالمے کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے ، ترجمان
سری نگر:ب
ھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی (ڈی ایف پی )نے آزاد جموں و کشمیر میں پائی جانے والی صورتحال پر اپنی فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ معاملے کو دانشمندی، صبر وتحمل اور مکالمے کے جذبے کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کریں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے ترجمان ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے سرینگر میں جاری ایک بیان میںکہا کہ وہ حکومت آزاد جموں و کشمیر، حکومت پاکستان اور ایکشن کمیٹی کی قیادت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پرامن ذرائع، باہمی احترام اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں۔انہوںنے کہا کہ کشمیر پوری ریاست جموں وکشمیر کا بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ 78 برسوں سے اس مسئلے کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی یہ بات بھی واضح کرنا چاہتی ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کا موازنہ بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کی صورتحال سے ہر گز نہیں کیا جاسکتا۔ دونوں مقامات کے حالات اپنی نوعیت، پس منظر اور زمینی حقائق کے اعتبار سے یکسر مختلف ہیں۔انہوںنے کہاکہ بھارت نے جموں وکشمیر پر فوجی طاقت کے بل پر قبضہ جما رکھا ہے اور اپنے اس قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے اس نے وہاں دس لاکھ سے زائد فورسز اہلکار تعینات کر رکھے ہیں۔ بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے1989سے اب ایک لاکھ کے قریب کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، جبکہ 1947 میں جموں کے علاقے میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد مسلمانوں کے قتلِ عام کی المناک تاریخ بھی ہمارے اجتماعی حافظے کا حصہ ہے۔ آج بھی حریت رہنماﺅں اور کارکنوں سمیت ہزاروں کشمیری بھارتی جیلوں میں بند ہیں جن میں ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ بھی شامل ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں ایک منتخب حکومت، وزیراعظم، صدر، عدالتی نظام اور سیاسی سرگرمیوں کے لیے آزاد ماحول موجود ہے جبکہ اسکے برعکس بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں اظہار رائے کی آزادی کے حق سمیت تمام بنیادی حقوق سلب کرکھے ہیں اور جو کوئی بھارتی جبر کے خلاف آواز بلند کرنے کی کوشش کرتا ہے اسے پبلک سیفٹی ایکٹ اور یو اے پی اے جیسے کالے قوانین کے تحت فوراً سلاکھوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے لہذا آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال کو بھارتی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے فوجی جبر، سیاسی پابندیوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مساوی قرار دینا حقائق کے بالکل منافی ہوگا۔







