بھارت : مودی کے خلاف فیس بک پر تنقیدی ویڈیوز پوسٹ کرنے پرمیٹا سر براہ کے خلاف مقدمہ درج

حیدرآباد: بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف فیس بک پر تنقیدی ویڈیوز پوسٹ کرنے پر جنوبی بھارت کے شہر حیدرآباد میں پولیس نے بھارت میں میٹا کمپنی کے سربراہ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سائبر کرائم پولیس نے یہ مقدمہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کی گئی متعدد ویڈیوز سے متعلق شکایات کے بعد درج کیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس (سائبر کرائمز) وی اروند بابو نے کہا کہ حکام اس کیس کے سلسلے میں میٹا پلیٹ فارمز کو نوٹس جاری کر رہے ہیں۔یہ پیشرفت وزیر اعظم مودی سے متعلق آن لائن مواد پر بھارتی حکومت اور میٹا کے درمیان پائے جانے والے تناو¿ کی نشاندہی کرتی ہے۔رواں ہفتے کے شروع میں بھارت کی الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے میٹاکے ایگزیکٹوافسران کو اس وقت طلب کیا جب فیس بک نے مودی کی ایک پوسٹ کو محدود کر دیا۔ یہ پوسٹ طلباءکے شدید احتجاج کے حوالے سے جو بھارت کے وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا باعث بنا،مودی کے پہلے ردعمل سے متعلق تھی، بعد میں اس پوسٹ کو بحال کر دیا گیا۔ میٹا نے کہا کہ یہ رکاوٹ نادانستہ طورپر پیدا ہوئی اوریہ غلطی سے ہوئی تھی۔تازہ ترین معاملہ وزیر اعظم مودی پر بڑھتی ہوئی آن لائن تنقید کے بعدسامنے آیا ہے، جس میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پران کے خلاف پوسٹس، مراحیہ تبصرے اورویڈیوز اور بڑھتا ہوااحتجاج شامل ہے ۔ ان تنقیدی پوسٹس میں بی جے پی کی زیر قیادت حکومت کی جانب سے ملک بھر میں طلبہ کے احتجاج سے نمٹنے کے طریقہ کار کو نشانہ بنایا گیا ہے۔






