پاکستان

بھارت نے پانی روکنے کی کوشش کی تو قیادت موثر جواب دینے کیلئے پرعزم ہے: عطا اللہ تارڑ

اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بھارت نے پانی روکنے کی کوشش کی تو قومی قیادت موثر جواب دینے کے لیے پرعزم ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سندھ طاس معاہدے سے متعلق اسلام آبا میں بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام کا دریائے سندھ کے نظام کے پانی پر پورا حق ہے، بھارت نے پانی میں رکاوٹ ڈالی تو بھرپور جواب دیں گے، پاکستان کیلئے پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ بقا کا معاملہ ہے۔انہوں نے سیمینار میں شریک تمام مندوبین کو خوش آمدید کرتے ہوئے کہاکہ سندھ طاس معاہدہ امن، علاقائی استحکام کا ایک اہم ذریعہ سیمینار سے خطاب اعزاز ہے، ہم ایک معاہدے پر نہیں بلکہ 24کروڑ عوام کی زندگی کہ شہ رگ پر بات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وادی سندھ کی تہذیب ہی ہماری اصل شناخت، ہم اس عظیم تہذیب کے وارث ہیں، دریائے سندھ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کی آبیاری کرتا آیا ہے، پاکستان کی تاریخ دراصل دریائے سندھ کی تاریخ ہے، گلگت بلتستان سے لیکر پنجاب اور سندھ تک دریائے سندھ نسلوں کی آبیاری کرتا آیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کیلئے پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ بقا کا معاملہ ہے، دریائے سندھ کے پانی کے تحفظ کیلئے ہر طریقہ اپنائیں گے، زراعت قومی معیشت کا بنیادی ستون اور دریائے سندھ اس کی شہ رگ ہے، چھ دہائیاں قبل دو ممالک نے ایک غیر معمولی فیصلہ کیا، فیصلے کے نتیجے میں سب سے پائیدار آبی معاہدوں میں سے ایک وجود میں آیا۔عطا تارڑ نے کہا کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی تعلقات میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے، پاکستان نے ہمیشہ پرامن روابط، تعمیری مذاکرات اور معاہدے پر مخلصانہ عملدرآمد کے عزم کا مظاہرہ کیا، بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کیا، ہمیں اس عزم کا اظہار کرنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ برقرار رہے گا، معاہدوں کی پاسداری ہی قوموں کے درمیان اعتماد اور عالمی نظام کے استحکام کی بنیاد ہے۔وزیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو قومی قیادت مثر جواب دینے کیلئے پرعزم ہے، پاکستان ہر صورت سندھ طاس معاہدے کے تقدس کا تحفظ کرے گا، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا علاقائی و عالمی امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے، ہمیں پانی کو تنازع کے بجائے تعاون کا ذریعہ بنانا چاہیے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button