سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت یکطرفہ طور پر پانی کا رخ نہیں موڑ سکتا، مصدق ملک

اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ بین الاقوامی ثالثی عدالت قرار دے چکی ہے کہ بھارت پاکستان کے حصے کے پانیوں پر آبی ذخائر نہیں بنا سکتااورنہ ہی یکطرفہ طورپر پانی کا رخ موڑ سکتا ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک نے کہاکہ بھارت ہمارے پانی کے بہائو میں رکاوٹ پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ آلودگی پیدا کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک بھی ہے، سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت یکطرفہ طور پر پانی کا رخ نہیں موڑ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ دنیا کے مضبوط ترین معاہدوں میں سے ایک ہے ، مسئلہ پانی کی عدم دستیابی یا بہائو کا نہیں، کنٹرول کا ہے، پاکستان نے تباہ کن سیلابوں کا سامنا کیا ، یہ ماحولیاتی مسئلہ نہیں، انصاف کا معاملہ ہے ، پاکستان میں بڑی طبقے کا ذریعہ معاش زراعت ہے جو پانی سے وابستہ ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پانی کی قلت کے باعث پاکستان میں کسان زراعت چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں جبکہ اس کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ بنگلہ دیش سمیت دیگر نشیبی ممالک بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔دریائے نیل ہو، دریائے فرات یا دریائے سندھ، دنیا کے مختلف خطوں میں پانی سے متعلق چیلنجز ایک جیسے ہیں، اس لیے یہ مسئلہ صرف ایک ملک کا نہیں بلکہ عالمی اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ مرالہ ہیڈ ورکس پر کبھی بھارت کی جانب سے انتہائی کم پانی چھوڑا جاتا ہے اور کبھی اچانک سیلابی ریلہ آ جاتا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ موسمیاتی تبدیلی نہیں بلکہ پانی کے بہا پر کنٹرول ہے، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ بھارت نہ صرف پاکستان کے حصے کے پانی کے بہائو کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ وہ دنیا میں آلودگی پھیلانے والے بڑے ممالک میں بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی اقدامات کے باعث پاکستان میں چھ ہزار افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور ہزاروں زخمی ہوئے جبکہ اتنی بڑی انسانی قیمت کئی جنگوں میں بھی دیکھنے میں نہیں آتی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ دنیا کے مضبوط ترین بین الاقوامی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے اور یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 3 جنگوں کے باوجود برقرار رہا۔انہوں نے کہا کہ اگر اتنا مضبوط معاہدہ بھی برقرار نہ رہ سکا تو پھر دنیا کا کوئی بھی بین الاقوامی معاہدہ محفوظ نہیں رہے گا اور کسی ایک ملک کو علاقائی اور عالمی امن کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کر چکا ہے جہاں عدالت متعدد واضح فیصلے دے چکی ہے۔ عالمی ثالثی عدالت قرار دے چکی ہے کہ کوئی بھی ملک سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا نہ ہی پاکستان کے حصے کے دریاں کے بہائو کا رخ موڑ سکتا ہے اور نہ ہی ان دریاں پر ایسے آبی ذخائر تعمیر کر سکتا ہے جو معاہدے کی خلاف ورزی ہوں۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بھارت عالمی ثالثی عدالت کے فیصلوں کو بھی تسلیم کرنے سے گریز کر رہا ہے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ اگر سندھ طاس معاہدہ ناکام ہوا تو اس کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا کے ہر اس ملک کو خطرہ لاحق ہو جائے گا جو بالائی اور زیریں دریائی نظام پر انحصار کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی آبی تحفظ، بین الاقوامی قانون اور عالمی امن کا معاملہ ہے۔






