امریکہ اور ایران بات کر سکتے ہیں تو بھارت اور پاکستان کیوں نہیں؟ میرواعظ عمر فاروق

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنماء میر واعظ عمر فاروق نے بھارت اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ دیرینہ تنازعات، بالخصوص مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں، کیونکہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرینگرمیں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ اگر امریکہ اور ایران کشیدگی کے باوجود مذاکرات کی میز پر آ سکتے ہیں تو بھارت اور پاکستان بھی باہمی مسائل کے حل کے لیے بات چیت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی ایک مثبت پیش رفت ہے اور وہ ہمیشہ ایسے اقدامات کی حمایت کرتے رہے ہیں۔انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ جمعہ جامع مسجد سرینگر میں بھی انہوں نے بھارتی قیادت سے اپیل کی تھی کہ وہ جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دے، کیونکہ تنازعات کا پائیدار حل صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔میرواعظ نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں بے پناہ معاشی امکانات اور انسانی وسائل موجود ہیں اور اگر بھارت اور پاکستان کی قیادت سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تعلقات کو بہتر بنائے تو پورا خطہ امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان بہتر تعلقات مسئلہ کشمیر سمیت تمام دیرینہ تنازعات کے حل کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ بھارت، پاکستان اور کشمیر ی قیادت کے ساتھ مل کر خطے میں پائیدار امن کے قیام اور مسائل کے پرامن حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کرے گا۔میرواعظ عمر فاروق نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ متحدہ مجلس علما کے تمام اراکین اس بات پر متفق ہیں کہ تمام مسالک کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی بھی سطح پر اختلاف یا غلط فہمی پیدا ہو تو اسے خیرسگالی، باہمی مکالمے اور ملت کے وسیع تر اتحاد کو مدنظر رکھتے ہوئے حل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری مسلمان صرف اتحاد و یکجہتی کے ذریعے ہی اپنی مذہبی، سماجی اور قومی شناخت اور مفادات کا موثر تحفظ کر سکتے ہیں۔






