امریکا کا لارنس بشنوئی گینگ سمیت بھارتی گینگز کیخلاف بڑا آپریشن
واشنگٹن: مریکی حکام نے بھارت سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی کارروائی کا اعلان کر دیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق آپریشن ہارڈ بال کے تحت امریکا، کینیڈا اور یورپی ممالک کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے 24ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکی عدالتوں میں دائر 3 الگ الگ مقدمات میں مجموعی طور پر 37افراد کو نامزد کیا گیا ہے جن میں بھارت کی جیل میں قید گینگسٹر لارنس بشنوئی اور اس کا قریبی ساتھی ستندر جیت سنگھ عرف گولڈی برار بھی شامل ہے۔امریکی تفتیش کاروں کے مطابق یہ گروہ امریکا، کینیڈا، برطانیہ، یورپ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ تک پھیلے ہوئے تھے، ان پر قتل، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، منشیات کی اسمگلنگ، ہتھیاروں کی خرید و فروخت، اغوا، انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ جیسے سنگین جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔امریکی محکمہ انصاف کے مطابق آپریشن ہارڈ بال کئی سال کی تحقیقات کے بعدشروع کیا گیا ہے جس کا مقصد جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہے۔کارروائی کے دوران حکام نے تقریبا 1000کلو گرام کوکین، 1کلو گرام ہیروئن، 40000ڈالرز نقد رقم اور 12ہتھیار برآمد کرنے کا دعوی کیا ہے، جبکہ کیلیفورنیا میں متعدد مقامات پر چھاپے بھی مارے گئے ہیں۔امریکا میں بھارتی جرائم پیشہ گروہ کے سربراہ لارنس بشنوئی پر عائد کی گئی فردجرم کے مطابق 33سالہ لارنس بشنوئی جیل میں رہتے ہوئے بھی اپنے جرائم پیشہ نیٹ ورک کو چلا رہا تھا، اس پر قتل، سیاسی شخصیات کے قتل کی منصوبہ بندی، اغوا، بھتہ خوری، منشیات اور انسانی اسمگلنگ سمیت کئی جرائم کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا گیا ہے۔ فردجرم میں جون 2023 میں کینیڈا کے شہر سرے میں سکھ لیڈرہردیپ سنگھ نجر کے قتل کا بھی ذکر کیا گیا ہے، امریکی پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا ہے کہ اس قتل کا حکم لارنس بشنوئی اور گولڈی برار نے دیا تھا۔فردِ جرم میں نومبر 2023 میں کینیڈا میں مقیم ایک معروف بھارتی اداکار اور گلوکار کے گھر پر فائرنگ کے واقعے کا بھی ذکر ہے، الزام ہے کہ بشنوئی گروہ نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی اور سوشل میڈیا پر دھمکی آمیز پیغام جاری کیا تھا۔دوسرے مقدمے میں بھارتی نژادجگو بھگوان پوریا اور اس کے 16 ساتھیوں کو نامزد کیا گیا ہے۔امریکی حکام کے مطابق بھگوان پوریا نے بعد میں اپنا الگ جرائم پیشہ گروہ قائم کیا جس کے دنیا بھر میں 1000سے زائد ارکان اور ساتھی ہیں۔اس گروہ پر بھی قتل، اغوا، منشیات، ہتھیاروں کی اسمگلنگ اور بھتہ خوری کے الزامات لگائے گئے ہیں۔تیسرے مقدمے میں کینیڈا کے رہائشی رویندر سنگھ دھندا عرف رینڈی اور دیگر افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔امریکی حکام کا دعوی ہے کہ یہ گروہ امریکا سے کینیڈا تک ہر ہفتے بڑی مقدار میں کوکین اور میتھ منتقل کرتا تھا۔جولائی 2023 سے نومبر 2024 کے درمیان 430کلو گرام سے زیادہ کوکین کی اسمگلنگ کی گئی۔امریکی محکمہ انصاف کے مطابق تمام ملزمان صرف الزامات کا سامنا کر رہے ہیں ۔الزامات ثابت ہونے پر بعض ملزمان کو عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔امریکی حکام کے مطابق اس کارروائی میں ایف بی آئی، کینیڈین پولیس، امریکی انسدادِ منشیات کے اداروں اور دیگر عالمی ایجنسیوں نے حصہ لیا ہے۔امریکی حکام نے کہا ہے کہ بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف مشترکہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔







